Members of the Syrian civil defense group, known as the White Helmets, search for prisoners at Saydnaya prison, with opposition fighters around, in Sednaya, Syria, December 9, 2024. (Reuters)

ترکیہ کے ریسکیو ورکرز نے دمشق کی بدنام زمانہ جیل صیدنایا کے قیدیوں کی تلاش شروع کر دی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

ترکیہ کے ریسکیو ورکرز نے دمشق کی بدنام زمانہ جیل صیدنایا کے قیدیوں کی تلاش شروع کردی ہے۔

ترکیہ کے ریسکیو کارکنوں کی ایک ٹیم نے پیر کے روز سے شام کی بشار رجیم کی قائم کردہ بدنام زمانہ جیل کے اندر لاپتہ ہو جانے والے قیدیوں کی تلاش شروع کر دی ہے۔ یہ بات ترکیہ کے ڈیزاسٹر مینجمنٹ ایجنسی سے متعلق ادارے 'افاد' کے ترجمان نے بین الاقوامی خبر رساں ادارے 'اے ایف پی' کو بتائی ہے۔

صیدنایا جیل دمشق کے شمال میں قائم ہے اور اسے دنیا میں ظلم و نازیت کی بشار الاسد کے دور کے حوالے سے شہرت ملی ہے۔ جس کے بارے میں خیال ہے کہ اس جیل کا آغاز خانہ جنگی کے برسوں میں 2011 سے کیا گیا تھا۔

اس جیل کی دریافت کے بعد شام بھی ان ملکوں میں شامل ہو گیا ہے جن کے حکمرانوں نے بدنام زمانہ جیلیں قائم کرنے میں آج کی مہذب دنیا میں بدترین تاریخ اور شہرت پائی ہے۔

شام کی خانہ جنگی سے پہلے عراق کی ابو غریب جیل اور انہی برسوں میں امریکی قبضے میں جزیرے گوانتاناموبے میں قائم جیل حالیہ دو تین دہائیوں کے دوران کی بدنام ترین جیلوں میں شامل ہے۔

صیدنایا جیل کے قیدیوں کو جیل کے اندر قائم کی گئی عمارت در عمارت میں زیر زمین رکھا جاتا تھا۔ ان میں بہت ساروں کو ماورائے عدالت کیسز میں قید رکھا جاتا، تشدد کیا جاتا اور پھانسی دے دی جاتی تھی۔

بشار الاسد کے اقتدار کے خاتمے، بشار الاسد کے ملک سے بھاگنے اور اپوزیشن کے اقتدار سنبھالنے کے بعد کے ہفتے میں ایسی کئی قیدیوں کو رہائی ملی ہے۔

'افاد' کے ترجمان نے بتایا کہ 80 ارکان پر مشتمل ایک ٹیم نے پیر کے روز سے سرچ اینڈ ریسکیو آپریشن شروع کر دیا ہے۔ تاکہ یہ تلاش کر سکے ان کو جن کے بارے میں خیال ہے کہ انہیں صیدنایا کی فوجی جیل میں قید رکھا گیا ہے۔

العربیہ کی تازہ خبریں Google News کے ذریعے حاصل کریں