قوات روسية، قاعدة حميميم في سوريا
روسی بتدریج حمیمیم کی طرف انخلا کر رہے ہیں: العربیہ کا انکشاف
صدر بشار الاسد کی حکومت کے خاتمے کے بعد روس نے شام سے بڑی تعداد میں فوجی سازوسامان اور افواج کا انخلا شروع کر دیا تھا۔ اس حوالے سے اب اگلا مرحلے پر کام شروع ہونے کا انکشاف ہوا ہے۔
العربیہ کے نامہ نگار نے اطلاع دی ہے کہ روسی افواج نے پہلے ہی طرطوس کی بندرگاہ سے اپنی کچھ پوزیشنیں خالی کرنا شروع کر دی ہیں۔
انہوں نے اس بات کی بھی تصدیق کی کہ واپسی کی حتمی تاریخ کے حوالے سے کوئی اطلاع موصول نہیں ہوئی۔ بندرگاہ میں آج تک روسی گاڑیاں موجود ہیں لیکن انہوں نے حال ہی میں ان میں سے بہت سی گاڑیوں کو نکال لیا ہے۔
العربیہ ذرائع نے مزید بتایا کہ اس میں اچھی خاصی تعداد میں گاڑیاں، عملہ بردار جہاز، ریڈار اور فوجی ساز و سامان رکھا گیا ہے۔ یہ منظر اس بات کی نشاندہی کر سکتا ہے کہ جو کچھ ہو رہا ہے وہ شام کے مختلف حصوں سے اللاذقیہ میں حمیمیم بیس کی طرف بتدریج انخلا کی کارروائی ہے۔
Your browser doesn’t support HTML5 video
امریکی حکام اور انٹیلی جنس معلومات سے واقف ایک مغربی اہلکار کے مطابق روس نے شام سے بڑی تعداد میں فوجی سازوسامان اور فوجیوں کو واپس بلانا شروع کر دیا ہے۔ حکام نے روسی انخلا کو بڑے پیمانے پر اور اہم قرار دیا ہے۔ حکام کے مطابق یہ انخلا گزشتہ ہفتے شروع ہوا لیکن یہ واضح نہیں ہے کہ آیا یہ مستقل طور پر ہوگا یا نہیں۔
امریکی اور مغربی انٹیلی جنس نے اشارہ کیا ہے کہ روسی حکام اس بات کا تعین کرنے کی کوشش کر رہے ہیں کہ آیا ’’ملٹری آپریشنز ڈیپارٹمنٹ‘‘ کسی قسم کے مذاکراتی تصفیے کی طرف جائے گا جس سے روس کو اپنے کچھ اہم اڈوں پر رہنے کی اجازت مل جائے گی۔
یہ بات اس وقت سامنے آئی جب 4 شامی حکام نے گزشتہ ہفتے اعلان کیا تھا کہ روس نے شمالی شام میں اگلے مورچوں اور ساحلی پہاڑوں پر واقع پوزیشنوں سے اپنی افواج کو واپس بلانا شروع کر دیا ہے تاہم اس نے اپنے دو اہم اڈے نہیں چھوڑے ہیں۔ اس کے بعد گزشتہ جمعہ کو سیٹلائٹ کی تصاویر میں حمیمیم اڈے پر کم از کم دو Antonov AN-124 طیارے دکھاسی گئے تھے۔
کریملن نے پہلے اعلان کیا تھا کہ روس شام کے نئے حکمرانوں کے ساتھ اڈوں کے حوالے سے بات چیت کر رہا ہے۔ ان کا ملک اپنے اڈوں سے دستبردار نہیں ہوا ہے۔ ان اڈوں میں اللاذقیہ میں روسی حمیمیم ایئر بیس اور طرطوس کی بندرگاہ شامل ہیں۔