کردوں کے زیرِ قیادت سیریئن ڈیموکریٹک فورسز (ایس ڈی ایف) کا اہلکار نو دسمبر 2024 کو شمال مشرقی شام کے شہر القامشلی کے بین الاقوامی ایئرپورٹ پر تباہ شدہ اور ترک شدہ فوجی گاڑیوں اور ساز و سامان کا معائنہ کر رہا ہے۔ یہ پہلے شامی-روسی افواج کا مشترکہ مرکز تھا۔ (فائل فوٹو) : اے ایف پی)

کردوں کے زیرِ قیادت شام کی ایس ڈی ایف اور انقرہ کے حامی گروہوں میں جھڑپیں: 24 افراد ہلاک

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

ایک جنگی نگران نے جمعرات کو بتایا کہ شمالی ضلع منبج میں کردوں کے زیرِ قیادت سیریئن ڈیموکریٹک فورسز (ایس ڈی ایف) کے ساتھ جھڑپوں میں کم از کم 24 فوجی ہلاک ہو گئے جن میں زیادہ تر ترکیہ کے حمایت یافتہ گروہوں سے تھے۔

سیریئن آبزرویٹری فار ہیومن رائٹس نے کہا کہ تشدد میں 23 ترک حمایت یافتہ فوجی اور ایس ڈی ایف سے منسلک منبج ملٹری کونسل کا ایک رکن ہلاک ہو گیا۔

برطانیہ میں قائم جنگی نگران ادارے نے کہا کہ منبج کے جنوب میں دو قصبات پر انقرہ کے حمایت یافتہ فوجیوں کے حملوں سے تازہ ترین جھڑپ شروع ہوئی۔

شمالی شام کے وسیع علاقے پر کردوں کی قیادت والی انتظامیہ کا کنٹرول ہے جس کی ڈی فیکٹو فوج اور امریکی حمایت یافتہ ایس ڈی ایف نے اس لڑائی کی قیادت کی جس نے 2019 میں شام میں داعش کو اس کے آخری علاقے سے نکالنے میں مدد کی تھی۔

ترکیہ ایس ڈی ایف کے اہم جز پیپلز پروٹیکشن یونٹس (وائی پی جی) پر عسکریت پسند کردستان ورکرز پارٹی (پی کے کے) سے وابستگی کا الزام لگاتا ہے جسے واشنگٹن اور انقرہ دونوں نے دہشت گرد گروہوں کی فہرست میں شامل کر رکھا ہے۔

منبج ملٹری کونسل کے زیرِ قبضہ عرب اکثریتی شہر منبج میں لڑائی میں شدت آ گئی ہے جو ایس ڈی ایف کے تحت کام کرنے والے مقامی باغیوں کا ایک گروپ ہے۔

آبزرویٹری کے مطابق "منبج کے جنوب اور مشرق میں جھڑپیں جاری رہیں جبکہ ترک افواج نے علاقے پر ڈرون اور بھاری توپ خانے سے بمباری کی۔"

ایس ڈی ایف نے کہا کہ اس نے منبج کے جنوب اور مشرق میں ترکیہ کے حمایت یافتہ گروہوں کے حملے ناکام بنا دیئے۔

ایس ڈی ایف نے ایک بیان میں کہا، منبج کے علاقے کے کئی دیہاتوں پر "آج صبح پانچ ترک ڈرونز، ٹینکوں اور جدید بکتر بند گاڑیوں کی مدد سے کرائے کے گروہوں نے پُرتشدد حملے کیے"۔

نیز کہا گیا، "ہمارے فوجی تمام حملے پسپا کرنے میں کامیاب ہوئے اور کرائے کے درجنوں فوجیوں کو ہلاک اور ایک ٹینک سمیت چھے بکتر بند گاڑیاں تباہ کر دیں۔"

ترکیہ نے 2016 سے ایس ڈی ایف کے خلاف متعدد کارروائیاں کی ہیں اور انقرہ کے حمایت یافتہ گروپوں نے حالیہ ہفتوں میں شمالی شام میں کردوں کے زیرِ قبضہ کئی قصبات پر قبضہ کر لیا ہے۔

آٹھ دسمبر کو شام کے دیرینہ حکمران بشار الاسد کے زوال کے بعد سے لڑائی جاری ہے۔

العربیہ کی تازہ خبریں Google News کے ذریعے حاصل کریں