قاسم غوریشی، ایران کے باسیج کے ڈپٹی کمانڈر
شامی عوام اس صورت حال کے خلاف جلد دوبارہ اٹھیں گے: ڈپٹی کمانڈر ایرانی ملیشیا بسیج
قاسم قریشی نے حوثیوں کو "ایران کے شاگرد" اور حماس اور اسرائیل کے درمیان مذاکرات کو "فتح" قرار دیا
ایرانی میڈیا نے اطلاع دی ہے کہ ایرانی پاسداران انقلاب سے وابستہ "مظلوموں کو متحرک کرنے کی تنظیم" (بسیج) کے نائب سربراہ قاسم قریشی نے ایرانی ایتھلیٹس کے اعزاز میں منعقدہ تقریب کے دوران دعویٰ کیا ہے کہ شامی عوام اس وقت افسوس میں زندگی گزار رہے ہیں اور وہ عنقریب موجودہ صورت حال کے خلاف اٹھیں گے۔ انہوں نے اپنے خطاب میں حوثیوں کو "ایران کے شاگرد" بھی قرار دیا اور حماس اور اسرائیل کے درمیان مذاکرات کو "فتح" قرار دیا۔
قاسم قریشی نے کہا کہ ہم شامی عوام کے لیے انتہائی دکھ اور افسوس کا مشاہدہ کر رہے ہیں۔ شام اس وقت امریکہ، اسرائیل اور ترکیہ کے ساتھ ساتھ پانچ سے زیادہ علیحدگی پسند اور دہشت گرد گروہوں کے کنٹرول میں ہے۔ انھوں نے مزید کہا کہ ہم شامی عوام کے لیے ایک المناک انجام کا انتظار کر رہے ہیں۔ یہ عوام بڑی مشکلات سے دوچار ہے لیکن جلد ہی ہم دہشت گردوں کا مقابلہ کرنے کے لیے شامیوں کی بغاوت کا مشاہدہ کریں گے۔
واضح رہے پاسداران انقلاب کے قریبی ذرائع ابلاغ شام میں نئی حکومت کے ارکان اور ان دھڑوں کو "دہشت گرد" کے طور پر بیان کرتے ہیں اور کرد دھڑوں کو "علیحدگی پسند" کے طور پر بھی بیان کرتے ہیں۔
اپنے خطاب میں قاسم قریشی نے حوثیوں کو یمنی عوام کا نمائندہ اور "ایران کے شاگرد" قرار دیا۔ انہوں نے کہا یمن کے لوگ، جو مقدس دفاع کی یونیورسٹی کے شاگرد ہیں اور بہادر ایرانی نوجوانوں کے شاگرد ہیں۔ اکیلے کھڑے ہیں۔ جیسا کہ ہم نے کل دیکھا کہ امریکی بحری افواج نے قیام کے بجائے بھاگنے کو ترجیح دی اور انہیں خطہ چھوڑنے پر مجبور ہوگئی۔
غزہ میں فلسطینی عوام کے ساتھ پیش آنے والے المیے کے بارے میں قاسم قریشی نے حماس اور اسرائیل کے درمیان جنگ بندی اور اسرائیلی قیدیوں کی رہائی کے لیے ہونے والے مذاکرات کو ایک فتح قرار دیا۔ انھوں نے کہا کہ غزہ کے عوام نہ صرف اسرائیل بلکہ پوری دنیا کے سامنے مہینوں سے بہادری کے ساتھ مزاحمت کر رہے ہیں۔ اب اسرائیل کو عالمی استکباری قوتوں کی مدد کے ساتھ مذاکرات کی میز پر بیٹھنا پڑ رہا ہے۔