اسرائیلی قیدیوں کی رہائی میں حماس ہی واحد رکاوٹ ہے : اسرائیلی وزارت خارجہ

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

اسرائیلی وزارت خارجہ کے ایک اعلیٰ ذمہ دار نے منگل کے روز یہ دعویٰ کیا ہے کہ اسرائیل غزہ میں موجود اپنے قیدیوں کی رہائی کے لیے غیرمعمولی طور پر کمٹمنٹ رکھتا ہے۔ لیکن حماس ان اسرائیلی قیدیوں کی رہائی میں واحد رکاوٹ کے طور پر موجود ہے۔

اسرائیل کے وزارت خارجہ کے ڈائریکٹر جنرل ایڈن بارٹل نے منگل کے روز اس امر کا اظہار اخبار نویسوں سے گفتگو کرتے ہوئے کیا ہے۔

اسرائیلی وزارت خارجہ کے ذمہ دار نے یہ گفتگو ایسے موقع پر کی ہے جب قیدیوں کو غزہ میں پورے 15 ماہ کا عرصہ گزر چکا ہے اور اسرائیل اپنی تمام تر جنگی جارحیت کے باوجود اپنے قیدیوں کو چھڑوانے میں کامیاب نہیں ہو سکا۔ اسرائیلی عوام کا نیتن یاہو حکومت پر اس سلسلے میں دباؤ بڑھتا جا رہا ہے کہ وہ حماس کے ساتھ معاہدہ کرے۔

تاہم اسرائیلی حکومت اور انتہا پسند اتحادی حماس کے ساتھ معاہدہ کرنے میں کم دلچسپی رکھتے ہیں۔ اس لیے مذاکراتی عمل جیسے ہی آگے بڑھتا ہے حماس کے مطابق اسرائیل کی طرف سے نئی تجاویز اور مطالبے سامنے آجاتے ہیں۔ یہ بات حماس کی طرف سے کم از کم پچھلے سال ماہ مئی سے مسلسل کہی جا رہی ہے۔

حماس کے مطابق اسرائیل امریکی صدر جوبائیڈن کے دیے گئے مستقل جنگ بندی کے مرحلہ وار فارمولے کے مطابق قیدیوں کی رہائی کرانے کے لیے بھی مخلص نہیں ہے۔

العربیہ کی تازہ خبریں Google News کے ذریعے حاصل کریں