ویڈیو میں لی گئی ایک تصویر
حجاب کے باعث ہراساں ایرانی خاتون نے مذہبی شخصیت کی پگڑی اتار کر سکارف بنا لی
سوشل میڈیا پر پھیلنے والی ایک ویڈیو میں تہران کے مہرآباد ایئرپورٹ پر ایک ایرانی خاتون کو بغیر حجاب کے ایک مذہبی شخصیت سے جھگڑا کرتے ہوئے دکھایا گیا۔ یہ شخص اسے ہراساں کر رہا تھا۔ خاتون نے اس شخص کی پگڑی اتار کر اپنے سر پر رکھ لی ۔ پاسداران انقلاب کے قریبی ذرائع ابلاغ نے اطلاع دی کہ خاتون کو کئی گھنٹوں تک حراست میں رکھا گیا۔
تصادم کی صحیح وجہ واضح نہیں ہے لیکن ویڈیو میں دکھایا گیا ہے کہ عورت غصے میں ہے اور دینی شخصیت کے سر سے پگڑی اتارتی ہے۔ اسے اپنے سر پر شال کی طرح رکھتی ہے اور کہتی ہے کہ کیا تم شیعہ ہو؟ شاید علی کے لیے؟ پھر وہ ایئرپورٹ پر اپنے شوہر کو تلاش کرتی ہے اور اس کا نام پکارتی اور کہتی ہے ''تم نے میرے شوہر کے ساتھ کیا کیا؟
خیال رہے واقعہ کی تاریخ نہیں بتائی گئی ہے لیکن کچھ صارفین کا کہنا ہے کہ یہ ویڈیو اتوار پانچ جنوری کی ہے۔ ویب سائٹ ’’ مشرق نیوز‘‘ نے پیر کو اطلاع دی کہ اس واقعے کا حجاب سے کوئی تعلق نہیں ہے۔ یہ خاتون نفسیاتی مسائل کا شکار ہے۔ خاتون کو گرفتار کرلیا گیا لیکن بعد میں شکایت کنندگان کے معاف کرنے کے بعد اسے رہا بھی کر دیا گیا۔
واضح رہے ایرانی حکومت کی مخالفین کو بدنام کرنے کے لیے "ذہنی بیماری" کا استعمال کرنے کی ایک طویل تاریخ ہے۔ گزشتہ نومبر میں لازمی حجاب کے خلاف مظاہروں کے دوران "یونیورسٹی آف سائنس اینڈ ریسرچ‘‘ کی ایک لڑکی اپنے کپڑے اتارنے کے بعد مزاحمت کی علامت بن گئی تھی۔ اس وقت بھی حکام نے اسے "بیمار" یا "پاگل" کے طور پر بیان کیا تھا۔ پچھلے سال ایران میں چار نفسیاتی اور مشاورتی انجمنوں نے لازمی حجاب کے مخالفین کو دبانے کے لیے حکومت کی جانب سے ذہنی بیماری کے استعمال پر تنقید کی ہے۔ مشرق نیوز نے مزید کہا کہ دینی شخصیت نے حجاب کے حوالے سے کوئی انتباہ جاری نہیں کیا تھا اور ان پر حملہ بلا وجہ کیا گیا تھا۔