دمشق انٹرنیشنل ایئرپورٹ

شام کی فضائی حدود میں دیگر فضائی کمپنیوں کی واپسی کا مطالعہ کر رہے ہیں:سول ایوی ایشن

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

شام کی سول ایوی ایشن کےسربراہ نے کہا ہے کہ وہ کئی دوسری فضائی کمپنیوں کی شام کی فضائی حدود کے استعمال کی اجازت دینے کا مطالعہ کررہے ہیں۔

آٹھ دسمبر کو سابق صدر بشار الاسد کے اقتدار کے خاتمے کے بعد پہلی بار دمشق کے ہوائی اڈے پر بین الاقوامی پروازوں کی واپسی کے ساتھ ہی شام میں شہری ہوابازی کے سربراہ اشہد الصلیبی نے کہا کہ اب سول ایشن پرپابندیاں جاری رکھنے کا کوئی جواز نہیں ہے۔

الصلیبی نے العربیہ/الحدث کے ساتھ ایک انٹرویو میں مزید کہا کہ اگلے مرحلے میں شہری فضائی بیڑے کی توسیع کا مشاہدہ کیا جائے گا۔ کرتے ہوئے کہ اتھارٹی بہت سی کمپنیوں کی شامی فضائی حدود میں واپسی کا مطالعہ کر رہی ہے۔

انہوں نے کہا کہ ان کا سب سے بڑا چیلنج اسد حکومت کی جانب سے ہوائی اڈوں اور تربیت کو نظر انداز کرنا ہے۔ انہوں نے کہا کہ سول ایوی ایشن اتھارٹی کیڈرز کو ہوائی ٹریفک کو متحرک کرنے کے لیے اہل بنانے کے لیے کام کرے گی۔

فضائی ٹریفک دوبارہ شروع

یہ بیانات العربیہ/الحدث کے نامہ نگار کی رپورٹ کےبعد سامنے آئے ہیں جس میں کہا کہ شامی ایئرلائنز کا ایک طیارہ دمشق ایئرپورٹ کے رن وے سے شارجہ ایئرپورٹ کی طرف 11:45 پرروانہ ہوا۔ بشارالاسد کے زوال کے بعد شام سے یہ پہلی بین الاقوامی تجارتی پرواز تھی۔

شام کی سول ایوی ایشن اور ایئر ٹرانسپورٹ اتھارٹی کے سربراہ اشہد الصلیبی نے گذشتہ ہفتے کے آخر میں اعلان کیا تھا کہ دمشق ایئرپورٹ 7 جنوری سے اپنی پروازیں چلانا شروع کر دے گا۔

قابل ذکر ہے کہ اس ہوائی اڈے کو گذشتہ مہینوں اور سالوں میں متعدد اسرائیلی حملوں کا نشانہ بنایا گیا تھا۔

جب کہ اس کا کام گزشتہ ماہ کی آٹھ تاریخ کو اسد کے زوال کے فوراً بعد ملک میں سکیورٹی کی صورتحال کے باعث معطل کر دیا گیا تھا۔

العربیہ کی تازہ خبریں Google News کے ذریعے حاصل کریں