حماس کے رہنما اسامہ حمدان (آرکائیو - ایسوسی ایٹڈ پریس)

ٹرمپ ’جھنم‘ کی دھمکیوں کے بجائے جنگ بند کرائیں: حماس

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

حماس نے نومنتخب امریکی صدرڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے دی گئی دھمکی کے بعد انہیں کہا ہے کہ ٹرمپ دھمکیوں کے بجائے جنگ بند کرائیں۔

خیال رہے کہ کل منگل کوایک بار پھر امریکی صدر نے حماس کو دھمکی دیتے ہوئے کہا تھا کہ وہ اسرائیلی یرغمالیوں کو رہا کرے ورنہ پورے مشرق وسطیٰ کو جھنم میں تبدل کردیا جائے گا۔

الجزائر میں پریس کانفرنس کے دوران حماس کے ایک عہدیدار اسامہ حمدان نے امریکی صدر سے مطالبہ کیا کہ وہ جلد بازی میں نہ آئیں اور غیر ذمہ دارانہ بیانات نہ دیں۔

ٹرمپ کی دھمکی پر تبصرہ کرتے ہوئے حمدان نے کہا کہ "انہیں زیادہ نظم و ضبط اور سفارتی ہونا چاہیے اور دھمکیاں دینے کے بجائے جنگ کو روکنے کے لیے کام کرنا چاہیے"۔

"مشرق وسطی میں جہنم"

حماس رہ نما کایہ بیان امریکی صدر کی جانب سے ایک بار پھر انتباہ کے بعد سامنے آیا ہے جس میں انہوں نے 20 جنوری کو اپنی حلف برداری کے وقت تک غزہ میں فلسطینی جنگجوؤں کی حراست میں موجود تمام قیدیوں کو فوری رہا کرنے کا مطالبہ کیا تھا۔ ٹرمپ نے کہا تھا کہ اگر میری حلف برداری تک قیدیوں کو رہا نہیں کیا جاتا "مشرق وسطیٰ میں کو جہنم میں بدل دیا جائے گا‘‘۔

انہوں نے فلوریڈا میں اپنے مار-اے-لاگو ریزورٹ میں بیانات کے دوران کہا کہ ’’یہ حماس کے لیے اچھا نہیں ہوگا، سچ کہوں تو سب پر جہنم ٹوٹ جائے گا۔ انہیں مزید کچھ کہنے کی ضرورت نہیں ہے‘‘۔

ٹرمپ کے مشرق وسطیٰ کے لیے خصوصی ایلچی نے کہا تھا کہ حماس اور اسرائیل کے درمیان بالواسطہ مذاکرات قیدیوں کی رہائی کے معاہدے اور غزہ میں جنگ بندی پر بہت زیادہ پیش رفت ہورہی ہے۔

انہوں نے اس امید کا بھی اظہار کیا کہ ٹرمپ کی حلف برداری کی تقریب تک کوئی معاہدہ طے پا جائے گا۔ انہوں نے انکشاف کیا کہ وہ قطر کے دارالحکومت دوحہ واپس جائیں گے جہاں آج بدھ کو مذاکرات ہو رہے ہیں۔

قطری وزارت خارجہ نے کل اعلان کیا کہ غزہ میں جنگ بندی کے مذاکرات تکنیکی سطح پر جاری ہیں اور وفود قاہرہ اور دوحہ میں مسلسل ملاقاتیں کر رہے ہیں۔

العربیہ کی تازہ خبریں Google News کے ذریعے حاصل کریں