اسرائیلی یرغمالیوں کے اہل خانہ کا تل ابیب میں مظاہرہ۔ [رائٹرز]

اسرائیل نے قیدیوں کی فہرست حوالے کر دی، معاہدے کا اعلان آج متوقع

فہرست میں برغوثی شامل نہیں، اعلان کے بعد بھی جنگ بندی 22 جنوری سے پہلے موثر نہیں ہوگی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

واشنگٹن کی جانب سے اس بات کی تصدیق کے بعد کہ اس ہفتے غزہ پر کسی معاہدے تک پہنچنے کا امکان ہے۔

العربیہ کے ذرائع نے انکشاف کیا کہ غزہ معاہدے کا اعلان آج منگل کو ہو سکتا ہے۔ انہی ذرائع نے یہ بھی بتایا ہے کہ غزہ جنگ بندی اگلے بدھ 22 جنوری سے پہلے موثر نہیں ہو گی۔ ذرائع نے کہا ہے کہ غزہ معاہدے کی شرائط پر عمل درآمد اس کے اعلان اور منظوری کے فوراً بعد شروع ہو جائے گا۔

انہوں نے یہ بھی کہا کہ اسرائیل نے فلسطینی قیدیوں کی ایک فہرست حوالے کی ہے جو وہ رہا کرنے کا ارادہ رکھتا ہے لیکن اشارہ دیا کہ مروان برغوثی اس فہرست میں شامل نہیں ہے۔

ذرائع نے عندیہ دیا ہے کہ اسرائیلی وزیراعظم نیتن یاہو معاہدے کے حوالے سے سکیورٹی مشاورت کر رہے ہیں۔ یہ پیش رفت امریکی قومی سلامتی کے مشیر جیک سلیوان کے اس بیان کے بعد سامنے آئی ہے کہ اس ہفتے غزہ پر جلد از جلد کسی معاہدے تک پہنچنے کا امکان ہے۔ نیز اسرائیلی وزیر خارجہ گیڈون ساعر نے پیر کو تصدیق کی کہ قیدیوں کے تبادلے کے معاہدے میں واقعی پیش رفت ہوئی ہے۔

انہوں نے اپنے برطانوی ہم منصب ڈیوڈ لیمی کو مزید کہا کہ اسرائیل ایک معاہدے تک پہنچنے میں دلچسپی رکھتا ہے اور اسے حاصل کرنے کے لیے کام کر رہا ہے۔ جلد ہی معلوم ہو جائے گا کہ آیا حماس بھی اس میں دلچسپی رکھتی ہے۔

Your browser doesn’t support HTML5 video

حماس کی تصدیق

حماس کے ایک عہدیدار نے پیر کو تصدیق کی ہے کہ غزہ کی پٹی میں جنگ بندی کے معاہدے سے متعلق اہم امور پر بات چیت میں پیش رفت ہوئی ہے۔

رائٹرز کے مطابق عہدیدار، جنہوں نے معاملے کی حساسیت کی وجہ سے اپنا نام ظاہر نہ کرنے کی درخواست کی، نے مزید کہا کہ مذاکرات میں اہم امور پر پیش رفت ہوئی ہے۔ فریقین جو کچھ باقی ہے اسے جلد مکمل کرنے کے لیے کام کر رہے ہیں۔ یہ بات حماس کے آج اس اعلان کے بعد سامنے آئی ہے کہ وہ جلد ہی اسرائیلی جیلوں میں قید اپنے قیدیوں کو رہا کرے گی۔

Your browser doesn’t support HTML5 video

معاہدے کا مسودہ

العربیہ کے ذرائع نے پیر کے اوائل میں اس مسودے یا معاہدے کی تفصیلات کا انکشاف کیا اور بتایا اس معاہدے میں دو مراحل شامل ہیں۔ ہر مرحلہ 42 دن کا ہے۔ ذرائع نے کہا نمایاں نکات میں سے ایک اسرائیل کا پٹی کے شمال اور مشرق میں دو کلومیٹر گہرائی میں بفر زون قائم کرنے پر اصرار بھی ہے۔

واضح رہے 7 اکتوبر 2023 سے اب تک تقریباً 100 اسرائیلی غزہ کی پٹی میں قید ہیں لیکن کچھ اسرائیلی اندازوں کے مطابق ان میں سے نصف ہلاک ہو چکے ہیں۔ ہزاروں فلسطینی اسرائیلی جیلوں میں بند ہیں جن میں سے بعض کو عمر قید کی سزا سنائی گئی ہے۔

العربیہ کی تازہ خبریں Google News کے ذریعے حاصل کریں

اسی بارے میں