سعودی وزیرخارجہ فیصل بن فرحان

شام کی انتظامیہ تعاون کررہی ہے، جنگ سے گریز کرنا ہوگا:سعودی عرب

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

شام کی مدد کے لیے سعودی عرب کے عزم کا اعادہ کرتے ہوئے وزیر خارجہ فیصل بن فرحان نے زور دیا کہ برادر عرب ملک کو مثبت سمت میں لے جانے کا بہترین موقع ہے۔

شام پر سے پابندیاں اٹھانے پر زور

انہوں نے منگل کوسوئٹزرلینڈ کے شہر ڈیووس میں عالمی اقتصادی فورم سے خطاب کے دوران مزید کہا کہ شامی انتظامیہ بین الاقوامی برادری کے ساتھ تعاون کی بڑی خواہش رکھتی ہے۔

انہوں نے شام کے صدر بشار الاسد کی حکومت کے خاتمے کے بعد شام پر سے بین الاقوامی پابندیاں اٹھانے کے لیے مزید کام کرنے کی ضرورت کی طرف بھی زور دیا۔

ان کا کہنا تھا کہ عالمی برادری کو عبوری مرحلے میں شام کی مدد کرنی چاہیے۔

لبنان کا دورہ

سعودی وزیر ؒخارجہ نے صدر جوزف عون کے انتخاب کو ایک بہت ہی مثبت چیز قرار دیتے ہوئے اس ہفتے بیروت کا دورہ کرنے کے منصوبے کا انکشاف کیا۔

انہوں نے دنیا کو لبنان میں حقیقی اصلاحات دیکھنے کی ضرورت پر زور دیا۔

Your browser doesn’t support HTML5 video

انہوں نے نشاندہی کی کہ ریاض اس بات پر یقین نہیں رکھتا کہ نئی امریکی انتظامیہ جنگ کے خطرے کو بڑھانے میں کردار ادا کر رہی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ ایران کو غزہ میں جنگ بندی کے لیے مثبت کردار ادا کرنا چاہیے۔

انہوں نے زور دے کر کہا کہ ان کا ملک خطے میں کسی بھی جنگ سے گریز کا خواہاں ہے۔

بڑی تبدیلیاں

ڈیووس ورلڈ اکنامک فورم اسرائیل اور حماس کے درمیان غزہ میں جنگ بندی کے نفاذ، نئے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے اقتدار سنبھالنے کے بعد اور لبنان میں تل ابیب اور حزب اللہ کے درمیان 60 دن کی ڈیڈ لائن کے خاتمے کے چند دن پہلے ہوا ہے۔

سعودی عرب نے بارہا شام پر عائد یکطرفہ اور بین الاقوامی پابندیاں ہٹانے کی ضرورت پر زور دیا ہے۔

Your browser doesn’t support HTML5 video

انہوں نے خبردار کیا کہ اس کا جاری رہنا شامی عوام کی ترقی اور تعمیر نو کی خواہشات کی راہ میں رکاوٹ بنے گا۔

جبکہ امریکہ نے چند روز قبل شام میں انسانی ہمدردی کی بنیاد پر امداد کی ترسیل کو آسان بنانے کی کوشش میں شام میں حکمراں اداروں کے ساتھ بشار الاسد کی حکومت کے خاتمے کے بعد چھ ماہ کے لیے مالیاتی منتقلی پر پابندیوں سے استثنیٰ کا اعلان کیا تھا۔

العربیہ کی تازہ خبریں Google News کے ذریعے حاصل کریں