ابوظہبی، متحدہ عرب امارات میں عالمی توانائی کانگریس کے دوران سعودی عرب کے بارے میں ایک سٹینڈ پر وژن 2030 کا لوگو نظر آ رہا ہے۔ (فائل فوٹو: اے پی)
ڈیووس میں ایک لائیو پینل: مملکت کی اقتصادی تبدیلیوں پر سعودی وزراء کا تبادلۂ خیال
سعودی عرب کی تیل کے علاوہ دیگر اقتصادی سرگرمیاں 2023 میں اس کے جی ڈی پی کے 50 فیصد تک پہنچ گئیں۔ سعودی مملکت کے لیے ایسا پہلی بار ہوا ہے کیونکہ اس نے ابھرتی ہوئی صنعتوں اور ٹیکنالوجیز، بنیادی ڈھانچے کی ترقی اور افرادی قوت کی موافقت کے ذریعے معیشت کو متنوع بنانے کے لیے اپنی سرمایہ کاری کو وسعت دی ہے۔
استحکام کے تحفظ اور مصنوعی ذہانت کے دور میں مضبوط نشوونما کو آگے بڑھانے کے لیے ملک کے کیا منصوبے ہیں؟
اس کے بارے میں مزید جاننے کے لیے لائیو ویڈیو دیکھیں: ڈیووس میں عالمی اقتصادی فورم سے ’سعودی عرب کی اقتصادی تبدیلیاں‘ کے موضوع پر پینل۔
مقررین
فرانسین لاکوا - ایڈیٹر-ایٹ-لارج اور میزبان، بلومبرگ ٹیلی ویژن
فیصل علی ابراہیم - سعودی وزیرِ اقتصادیات و منصوبہ بندی
محمد الجدعان - سعودی وزیرِ خزانہ
لارنس ڈی فنک - چیئرمین اور چیف ایگزیکٹو آفیسر، بلیک راک
عبداللہ السواحہ - سعودی وزیرِ مواصلات و انفارمیشن ٹیکنالوجی
کرسٹالینا جارجیوا - منیجنگ ڈائریکٹر، بین الاقوامی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف)