Israeli soldiers walk near tanks waiting in position on the second day of the ceasefire between Israel and Hezbollah, near a road close to the Israel-Lebanon border on November 28, 2024. (Reuters)

اسرائیل فوج کا جنوبی لبنان سے مکمل طور پر پیچھے نہ ہٹنے کا اعلان، حزب اللہ جنگ سے گریزاں

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

لبنانی حزب اللہ اور اسرائیل کے درمیان 60 روزہ جنگ بندی کی ابتدائی مدت کل اتوار کی صبح ختم ہونے والی ہے۔

واپسی کی تیاریاں اور طاقت کا استعمال

سرحدی پٹی کے دیہات کے مکین خاص طور پر وہ لوگ جہاں سے اسرائیلی فوجیں ابھی تک نہیں نکلی ہیں پانچ ماہ سے زائد عرصے کی غیر حاضری کے بعد اتوار کی صبح واپسی کی تیاری کر رہے ہیں۔ انہوں نے فوج کو مطلع کیا کہ اگر اسرائیلی فوج نہ نکلی تو وہ اتوار کو طاقت کے ذریعے داخل ہوں گے۔

اسرائیلی فوج واپسی

اس تناظر میں باخبر ذرائع نے العربیہ ڈاٹ نیٹ اور الحدث ڈاٹ نیٹ کو بتایا کہ "لبنانی فوج آنے والے گھنٹوں میں ایک بیان جاری کرکے اس صورتحال سے نمٹنے کے لیے مکینوں سے صبر کرنے اور فوج کی انجینئرنگ ٹیموں کے سامنے واپس جانے میں جلدی نہ کرنے کی اپیل کرے گی‘‘۔

Your browser doesn’t support HTML5 video

جنگ بندی معاہدے کی 600 سے زائد خلاف ورزیاں

اس کے برعکس اسرائیل کی طرف سے جنگ بندی کے معاہدے کی خلاف ورزیاں جاری رہیں۔ ان ساٹھ دنوں میں 600 سے زیادہ خلاف ورزیاں کی گئیں۔ اسرائیلی فوج گھروں کو بموں سے اڑانے اور ان میں دھماکے کرنے، سڑکوں کو بلڈوز کرنے، زرعی فصلوں کو جلانے اور جنگلاتی علاقوں کو آگ لگانے کے علاوہ جنوبی لبنان، بیروت اور بقاع میں ڈرونز کی مسلسل پروازیں جاری رہتی ہیں۔

ایسا نہیں لگتا کہ اسرائیل جنگ بندی کے معاہدے کی اپنی خلاف ورزیوں سے مطمئن ہے، لیکن کچھ اسٹریٹجک مقامات خاص طور پر وسطی اور مشرقی سیکٹرز میں رہنے کی تیاری کر رہا ہے۔

نیتن یاھو کا رد عمل

میڈیا لیکس نے تصدیق کی کہ اسرائیلی وزیر اعظم بنجمن نیتن یاہو کے دفتر نے کہا ہے کہ جنوبی لبنان سے اسرائیلی فوج کے انخلاء میں 60 دن سے زیادہ وقت لگے گا، کیونکہ لبنان کی طرف سے جنگ بندی کے معاہدے پر مکمل طور پر عمل نہیں کیا گیا ۔ جنوبی لبنان سے اسرائیلی انخلاء بتدریج اور واشنگٹن کے ساتھ ہم آہنگی میں ہو گا۔

اس طرح اسرائیل نے باضابطہ طور پر اعلان کیا ہے کہ وہ ساٹھ دن کی مدت ختم ہونے کے بعد جنوبی لبنان سے پیچھے نہیں ہٹے گا۔

واپسی دو ہفتوں تک ملتوی

اس تناظر میں سکیورٹی ذرائع نے العربیہ/الحدث کو بتایا کہ "جنوبی لبنان سے مکمل اسرائیلی انخلاء کی آخری تاریخ کل اتوار کے لیے مقرر کردہ تاریخ سے مزید دو ہفتوں کے لیے بڑھائی جا سکتی ہے جیسا کہ جنگ بندی معاہدے میں طے کیا گیا ہے"۔

ذرائع نے وضاحت کی کہ "اسرائیلی فوج مشرقی اور وسطی علاقوں میں اپنی موجودگی برقرار رکھے گی، جن میں طیبہ، اسٹریٹجک حمام ہل، نبی عویدہ، میس الجبل، بلیدہ اور دیر میماس شامل ہیں"۔

جہاں تک حزب اللہ کا تعلق ہے جس نے اس جنگ کے لیے بھاری قیمت ادا کی۔ اس نے ایک بیان میں اشارہ کیا کہ "60 دن کی ڈیڈ لائن سے تجاوز کرنا معاہدے کی صریح خلاف ورزی اور لبنان کی خودمختاری کی خلاف ورزی پر اصرار ہے۔ حزب اللہ نے اسرائیل پر زور دیا ہے کہ وہ لبنان کی سرزمین سے نکل جائے اور بین الاقوامی قوانین کا احترام کرتے ہوئے جنگ بندی پر عمل درآمد کا مطالبہ کیا۔

رابطوں میں تیزی

دوسری جانب اسرائیلی فوج کی لبنان سے واپسی کے لیے بین الاقوامی رابطوں کی رفتار تیز آئی ہے۔ اسرائیل پر دباؤ ڈالا جائے کہ وہ کل صبح سویرے جنوبی لبنان سے مکمل انخلا کا عہد کرے، جیسا کہ معاہدے میں بیان کیا گیا ہے، حالانکہ لبنان کو اس اثر کی ضمانتیں نہیں ملی تھیں۔

جنوبیہ ویب سائٹ کے چیف ایڈیٹر علی الامین نے العربیہ ڈاٹ نیٹ اور الحدث ڈاٹ نیٹ کو بتایا کہ "اسرائیلی فوج بعض مقامات پر اپنی موجودگی برقرار رکھے گی، کیونکہ لبنان نے جنگ بندی معاہدے میں کے حوالے سے ضروری ذمہ داریوں پر عمل درآمد نہیں کیا ہے۔

اسرائیل نے مانیٹرنگ کمیٹی کو بتایا کہ وہ پیچھے نہیں ہٹے گا؟

انہوں نے "اس امکان کو رد نہیں کیا کہ تل ابیب نے معاہدے کی نگرانی کرنے والی کمیٹی کو ایک رپورٹ بھیجی تھی تاکہ اسرائیلی فوج کے جنوب سے مکمل انخلاء میں ناکامی کا جواز پیش کیا جا سکے۔ اس بہانے کہ معاہدے پر دستخط کرنے والے لبنان نے دریائے لیطانی میں حزب اللہ کو روکنے کا عہد نہیں کیا۔

دریں اثناء الامین نے کہا کہ "حزب اللہ باشندوں کی اپنے گائوں میں جلدی واپسی کے مطالبے کا فائدہ اٹھا رہی ہے، تاکہ حکومت کو اس دعوے کے ساتھ نشانہ بنایا جا سکے کہ وہ بین الاقوامی برادری سے اسرائیل پر دباؤ ڈالنے کے لیے اپنا فرض ادا نہیں کر رہی ہے۔

حزب اللہ کوئی جواب نہیں دے گی

انہوں نے کہا کہ جنگ بندی معاہدے پر عمل درآمد میں ناکامی پر حزب اللہ کے ردعمل کا امکان نہیں ہے، کیونکہ وہ دوبارہ تصادم کی طرف واپسی کا نہیں سوچ رہی، خاص طور پر چونکہ اسے اندازہ ہے کہ اسرائیل کسی بھی سکیورٹی آپریشن کا جواب دینے میں ہچکچاہٹ محسوس نہیں کرے گا۔ "

العربیہ کی تازہ خبریں Google News کے ذریعے حاصل کریں

اسی بارے میں