آگام بیرگو
حماس کی 16 ماہ سے زائد اسیری کے بعد 20 سالہ اسرائیلی فوجی اگام بیرگر کو آج رہا کر دیا گیا جو کہ آج رہا ہونے والی پہلی خاتون قیدی ہے۔
اگام کو 7 اکتوبر 2023 کو غزہ کی پٹی کے قریب واقع نہال عوز چوکی پر فوجی مبصر کے طور پر اپنا مشن شروع کرنے کے صرف ایک دن بعد پکڑا لیا گیاتھا۔
اس وقت جاری ہونے والی فوٹیج میں اگام کو خون آلود چہرے میں دکھایا گیا تھا،حالانکہ یہ واضح نہیں ہے کہ یہ خون اس کا تھا یا اس کے ساتھ والی پناہ گاہ میں مارے گئے ساتھی فوجیوں کا تھا۔
اسرائیل کی ’Jfeed‘ ویب سائٹ کی ایک رپورٹ کے مطابق اگام نہال عوز میں تعینات پانچ خواتین مبصرین میں سے آخری تھیں جو قید میں رہیں۔
آگام بیرگو
جب کہ اس کے ساتھی سپاہی لیری الباگ، ناما لیوی، کرینہ ایریف اور ڈینییلا گلبوا کو گذشتہ مہینوں میں رہا کر دیا گیا، اگام کی رہائی میں تاخیر پر اس کا خاندان مایوس تھا۔
ڈیوٹی کے پہلے دن گرفتار کرلیا گیا
اسرائیلی میڈیا میں آنے والی اطلاعات کے مطابق یہ خاتون اسرائیلی فوجی غیر متوقع طور پر پکڑی گئی تھی ۔ اصل میں اسے کارم شالوم کے علاقے میں تعینات کیا جانا تھا، لیکن آخری لمحات میں اس کی اسائنمنٹ کو نہال عوز میں تبدیل کر دیا گیا۔
چوکی پر اپنے پہلے دن اسے حماس نے اس کے ساتھیوں کے ساتھ پکڑ لیا۔ بعد میں اس کے اہل خانہ نے اس واقعے کی فوٹیج جاری کی۔ ویڈیو میں اگام اور اس کے ساتھی سپاہیوں کو قید کرتے ہوئے دیکھا جا رہا ہے۔
قابل ذکر ہے کہ اسرائیلی فوج نے آج جمعرات کو کہا ہے کہ اسے غزہ کی پٹی میں حماس کی طرف سے رہائی کے بعد ریڈ کراس سے آگام بیرگیر موصول ہوگئی ہے۔بعد میں انہوں نے مزید کہا کہ یہ اب اسرائیلی علاقے میں ہے۔
فوج نے ایک بیان میں کہا کہ "تھوڑی دیر قبل اسرائیلی فوج اور شین بیت فورسز کے ساتھ رہا کی گئی یرغمالی سپاہی اگام بیرگر سرحد پار کر کے اسرائیلی علاقے میں داخل ہوئی"۔ فوج نے ایک بیان میں کہا کہ اس کا ابتدائی طبی معائنہ کیا جائے گا"۔