Palestinian mother, Manal al-Harsh, sits on rubble of her house destroyed during the Israeli offensive, amid a ceasefire between Israel and Hamas, in Jabalia refugee camp in the northern Gaza Strip January 29, 2025. (Reuters)
غزہ کے گھروں کے کھنڈرات میں چوہوں، کتوں اور پھٹے پرانے کپڑوں کی کثرت
منال الھرش کی اپنے تباہ شدہ گھر میں واپسی مزید پریشان کن اور ناخوشگوار ہو گئی ہے کیونکہ شمالی غزہ میں ان کے محلے کے کھنڈرات میں اب بکثرت چوہوں اور کتوں کا بسیرا ہے۔
جنگ بندی سے اسرائیلی بمباری میں تعطل آ جانے کے باوجود وہ اب بھی اپنے خاندان کی سلامتی کے لیے خوفزدہ ہیں۔ انہیں رات کو سونے میں پریشانی ہوتی ہے۔
جبالیا میں گھر کے ملبے میں اپنے بچوں کے کپڑے تلاش کرنے سے بھی انہیں مایوسی اور لاچاری کا احساس ہوتا ہے۔
چھتیس سالہ الھرش نے اپنے اور اپنے بچوں کو پناہ دینے کے لیے بچے کھچے کمبلوں سے ایک عارضی خیمہ کھڑا کیا ہوا ہے۔
الہرش نے ملبے پر احتیاط سے قدم رکھتے ہوئے کہا، "ہم یہاں رہ تو رہے ہیں لیکن ہم چوہوں اور اپنے اردگرد کی ہر چیز سے خوفزدہ ہیں۔ یہاں کتے ہیں۔ رہنے بسنے کی کوئی جگہ نہیں۔ ہمارے ساتھ بچے ہیں۔ یہ بہت مشکل ہے۔"
انہوں نے بتایا کہ جنگ بندی نافذ ہونے کے بعد وہ فلسطینی انکلیو کے جنوب سے واپس آ گئی تھیں لیکن انہیں ان کا گھر تباہ شدہ ملا۔
غزہ شہر کا بیشتر حصہ 15 ماہ کی لڑائی اور اسرائیلی فضائی اور توپ خانے کے حملوں کے بعد کھنڈرات میں بدل گیا ہے جو جنگ سے پہلے ایک بارونق شہری مرکز تھا۔
انہوں نے کہا، "ہم عملی طور پر یہاں سو تو رہے ہیں لیکن ہم دراصل سوتے نہیں۔ ہمیں خوف ہے کہ کوئی ہم پر آ نہ جائے۔ ہم سوتے ہیں اور ڈرتے ہیں۔ میں بچوں کے پہننے کے لیے کچھ کپڑے تلاش کرنا چاہتی ہوں۔ ہم کچھ نہیں لے کر آئے۔ یہاں زندگی مہنگی ہے اور کچھ خریدنے کے پیسے نہیں ہیں۔"
واپس آنے والوں میں سے کئی افراد نے شمال میں ساحلی شاہراہ کے ساتھ 20 کلومیٹر (12 میل) یا اس سے زیادہ کا پیدل سفر طے کیا۔ ان کے پاس اکثر ان کا ذاتی سامان تھا جو کئی مہینوں بعد بھی ان کے پاس ہے۔
کئی بے گھر فلسطینیوں کی طرح الھرش کو بھی غیر یقینی صورتِ حال کا سامنا ہے کیونکہ وہ باقی ماندہ کو بچانے کے لیے کوشاں ہیں۔ وہ ملبے سے کچھ کپڑے حاصل کرنے میں کامیاب ہو گئیں لیکن وہ خراب حالت میں تھے۔
انہوں نے کہا، "یہ سب پھٹے ہوئے ہیں۔ کچھ بھی اچھا نہیں ہے۔ جتنا ہم تلاش کرتے ہیں، ہمیں پتھر ہی ملتے ہیں۔"
الھرش نے مایوسی اور غم سے بوجھل آواز میں کہا، "اس سے تو موت بہتر ہے۔"