Senior Hamas militant Marwan Issa. (X)
حماس کے مسلح ونگ کے مقتول نائب سربراہ غزہ میں سپردِ خاک
سینیئر رہنما کی وفات سے مزاحمت ختم نہیں ہوئی: اسلامی جہاد
حماس کے سینکڑوں مزاحمت کار اور تماشائی جمعہ کے روز غزہ کی پٹی کے بوریج پناہ گزین کیمپ میں تحریک کے مسلح ونگ کے مقتول نائب رہنما مروان عیسیٰ کی تدفین کے لیے جمع ہوئے۔
گروپ کے مسلح عزالدین القسام بریگیڈ کے رائفلیں لہراتے ہوئے مزاحمت کاروں کا ایک جمِ غفیر جنازے کے جلوس کے لیے مرکزی غزہ کیمپ کی تنگ گلیوں میں موجود تھا جن کی سیاہ ماسک کے پیچھے صرف آنکھیں ہی نظر آتی تھیں۔
اسرائیلی فوج نے کہا کہ اس نے مارچ 2024 میں ایک فضائی حملے میں عیسیٰ کو ہلاک کر دیا تھا لیکن حماس نے ان کی موت کی تصدیق حالیہ جنگ بندی کے درمیان 30 جنوری کو کی۔
اس گروپ نے القسام کے فوجی سربراہ محمد الضیف کی ہلاکت کا بھی اعلان کیا جن کے بارے میں اسرائیل نے کہا تھا کہ وہ جولائی کے ایک فضائی حملے میں کئی دیگر مزاحمت کاروں اور کمانڈروں کے ہمراہ ہلاک ہو گئے تھے۔
حماس اور فلسطین کے پرچموں میں لپٹے اور مقتول نائب کی تصاویر سے مزین عیسیٰ کے تابوت کو جلوس کے دوران مزاحمت کاروں نے کندھوں پر اٹھا رکھا تھا۔ تدفین سے قبل کیمپ کے ایک سپورٹس سٹیڈیم میں نمازِ جمعہ ادا کی گئی۔
مزاحمتی گروپ اسلامی جہاد کے ارکان بھی جنازے میں موجود تھے۔ اس کے ایک مزاحمت کار نے کہا، "یہ نہ سمجھیں کہ عظیم رہنما مروان عیسیٰ کے قتل کے ساتھ مزاحمت ختم ہو گئی ہے۔"
انہوں نے مزید کہا، "ہمارے پاس کئی مزاحمتی سپاہی اور ہیرو ہیں اور ہم آپ کے لیے مسلسل تیاری کر رہے ہیں۔"
اسرائیل نے الزام عائد کیا تھا کہ حماس کے سات اکتوبر 2023 کے حملے کی منصوبہ بندی کرنے والوں میں عیسیٰ بھی شامل تھے۔
جنگ بندی معاہدے کے تحت ہفتے کے روز یرغمالیوں کی حوالگی کے دوران حماس کے متعدد مزاحمت کاروں نے غزہ شہر کی بندرگاہ پر طاقت کے مظاہرے میں مقتول کمانڈروں کی تصاویر اٹھا رکھی تھیں۔