قیدیوں اور زخمیوں کی امداد روکنے کا حکمنامہ واپس لیں ، فلسطینی حکام کا محمود عباس سےمطالبہ
فلسطینی اتھارٹی کے صدرمحمود عباس کی طرف سے فلسطینیوں کے اس مشکل ترین وقت کے دوران قیدی فلسطینیوں ، زخمی فلسطینیوں اور اسرائیلی فوج کےہاتھوں شہید ہو جانے والے فلسطینیوں کے اہل خانہ اور ورثاء کے لیے امدادی رقوم کا سلسلہ منسوخ کرنے پر فلسطینی اتھارٹی اور مغربی کنارے میں فلسطینی حکام کی طرف سے بھی سخت رد عمل آیا ہے۔
86 سالہ محمود عباس 2006 میں ہونے والے آخری صدارتی انتخاب میں صدر بنے تھے۔ تاہم وقت کی رفتار اور عالمی طاقتوں کے مزاج کو سمجھنے میں گہرا تجربہ انہیں اب تک ایک دائمی فلسطینی صدر بنائے ہوئے ۔انہوں نے پیر کے روز اپنے ایک حکم نامے کے تحت ان فلسطینی خاندانوں کو دیا جانے والا الاونس یا امدادی رقم روک دی ہے۔
اس سے قبل فلسطینی اتھارٹی نے یہ طے کر رکھا تھا کہ جن فلسطینیوں کےعزیز اسرائیلی جیلوں میں قید ہیں، جن کے اہل خانہ یا گھرانے کے کسی فرد کو اسرائیلی فوج نے زخمی کر دیا ،یا اسرائیل فوج نے جس فلسطینی خاندان کے کسی فرد کو شہید کر دیا کیا ان کے اہل خانہ کی مالی امداد کی جاتی رہے گی۔
صدر محمود عباس جن کی صدارت اور سفارت کو امریکہ و اسرائیل وغیرہ بھی تسلیم کرتے ہیں ، انہوں نے اس مالی بوجھ سے بچنے کا ایک روز قبل فیصلہ کیا ہے۔ اس بارے میں اب صدر محمود عباس کا خیال ہے کہ ان فلسطینی خاندانوں کو اس امداد کی اب ضرورت نہیں ہے اس لیے یہ رقم ان پر کیوں خرچ کی جائے۔
مگر اس پر فلسطینی عوام کے ساتھ ساتھ خود رام اللہ میں فلسطینی اتھارٹی کے حکام نے بھی سخت رد عمل دیا ہے۔ فلسطینی حکام نے بھی اس صدارتی فیصلے کی مذمت کی ہے اور مطالبہ کیا ہے کہ فلسطینیوں کے وسائل سے فلسطینیوں کو محروم نہ کریں۔ یہ رقم تمام فلسطینی خاندانوں تک جس طرح پہلے جاتی تھی اسی طرح جانے دی جائے۔
اس صدارتی فیصلےکی مذمت کرنے والوں کے مطابق اس سے ہزاروں فلسطینی متاثر ہونگے اور فلسطینی عوام کی مشکلات میں مزید اضافہ ہو جائے گا۔
قدرۃ فاریس رام اللہ میں قائم فلسطینی اتھارٹی کی کمیٹی برائے اسیران کے سربراہ ہیں انہوں نے صدر محمود عباس کے اس فیصلے کو فوری واپس لینے کا مطالبہ کیا ہے۔ ان کے مطابق صدر فلسطینی اتھارٹی کے اس فیصلے سے اسرائیلی فوج کے ستم رسیدہ 35000 سے 40000 فلسطینی خاندان متاثر ہوں گے۔
اسیر فلسطینیوں کے لیے قائم کمیٹی کے سربراہ نے اس بارے میں ایک پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا ' میں مطالبہ کرتا ہوں کہ اس فیصلے کو واپس لیا جائے۔' ان کا کہنا تھا اس نامناسب فیصلےکو فلسطینی سیاسی قیادت کو ہر سطح پر دیکھنا چاہیے۔
ایک اور بیان میں انہوں نے کہا ' فلسطینیوں کو معاشی اعتبار سے بااختیار بنانے کے لیے قائم فاؤنڈیشن ان رقوم کا جائزہ لے گی اور آڈٹ کا بھی اہتمام کرے گی۔ جو فلسطینی عوام کی مشکلات کا بھی جائزہ لے گی اور تصدیق کرے گی۔
فلسطینی اتھارٹی کے سرکاری خبر رساں ادارے ' وفا ' کے مطابق اس رقم سے جو بھی فلسطینی خاندان پہلے مستفید ہورہے تھے انہیں فاؤنڈیشن اسی طرح بغیر کسی امتیاز کے سماجی و فلاحی پروگراموں کا حصہ رکھے گی۔
قدرۃ فاریس کے ساتھ پریس کانفرنس میں شہریوں کے حقوق کے لیے قائم ادارے' سنٹر فار دی ڈیفنس آف لبرٹیز اینڈ سول رائٹس کے سربراہ حلمی العراج بھی موجود تھے ، انہوں نے بھی فلسطینی اتھارٹی کے صدر سے یہ حکم واپس لینے کا مطالبہ کیا۔
یاد رہے 2004 کے بنائے گئے ایک قانون کے مطابق فلسطینی متاثرہ خاندان جن کے ارکان اسرائیلی قید میں ہوں گے۔ ان تمام فلسطینی قیدیوں کی قید کی مدت اور سزا کے مطابق درجہ بندی کرتے ہوئے سرکاری ملازمین کے طور پر مالی امداد تنخواہ کی طرح دی جائے گی۔
خیال رہے محمود عباس کا یہ حکم نامہ امریکہ اور اسرائیل کے مطالبےکی روشنی میں سامنے آیا تصور کیا جارہا ہے۔ کیوںکہ دونون ملک یہ مطالبہ کر رہے تھے۔اس لیے محمود عباس نے یہ حکم نامہ جاری کر دیا ہے۔