رئيس الوزراء بنيامين نتنياهو - رويترز

واشنگٹن سے یہ ویژن لے کر آیا ہوں کہ غزہ میں حماس ہوگی نہ فلسطینی اتھارٹی: نیتن یاہو

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

واشنگٹن کے دورے کے بعد اسرائیلی وزیر اعظم بنیامین نیتن یاہو نے اعلان کیا ہے کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے غزہ کے لیے "نیا اور انقلابی ویژن" پیش کیا ہے۔

انہوں نے حکومت کے خلاف عدم اعتماد کے اجلاس کے دوران کنیسٹ سے پہلے ایک تقریر میں کہا کہ میں واشنگٹن سے اس ویژن کے ساتھ واپس آیا ہوں کہ غزہ میں حماس یا فلسطینی اتھارٹی نہیں ہوگی۔

انہوں نے مزید کہا کہ ٹرمپ کا مستقبل کا ویژن اس بات کی ضمانت دیتا ہے کہ حماس بطور حکمران غزہ میں واپس نہیں آئے گی۔ ٹرمپ غزہ میں جنگ کے مقاصد کے حصول کی حمایت کرتے ہیں۔

انہوں نے زور دے کر کہا کہ جنگ ختم نہیں ہوئی اور میں جنگ کے تمام اہداف حاصل کرنے سے پہلے نہیں رکوں گا۔ انہوں نے کہا کہ ہم امریکہ کے ساتھ تعلقات میں ایک تاریخی موڑ پر ہیں۔ انہوں نے نشاندہی کی کہ سابق امریکی صدر جو بائیڈن کی انتظامیہ نے واضح طور پر ہمیں جنوبی غزہ میں رفح میں داخل نہ ہونے کو کہا اور ہتھیاروں کو کاٹنے کی دھمکی دی تھی۔ ہم نے امریکی انتباہ اور رفح میں داخل نہ ہونے کی درخواست کو برداشت کیا تھا۔ نیتن یاہو نے مزید کہا حزب اللہ کے سیکرٹری جنرل حسن نصر اللہ کے قتل کے بعد برائی کا ایرانی محور ٹوٹ گیا ہے۔

دریں اثنا، کنیسٹ کے ارکان نے نیتن یاہو کی تقریر کا بائیکاٹ کردیا۔ اجلاس میں وزیراعظم اور اپوزیشن کے نمائندوں کے درمیان تلخ تبادلہ خیال بھی ہوا۔ بعد میں کنیسٹ حکومت پر عدم اعتماد پر ووٹ دینے میں ناکام رہی۔

Your browser doesn’t support HTML5 video

واضح رہے 20 جنوری کو عہدہ سنبھالنے کے فوراً بعد ٹرمپ نے غزہ کا کنٹرول سنبھالنے اور بڑے پیمانے پر تعمیر نو کی کوششوں میں شامل ہونے کا خیال پیش کیا۔ ٹرمپ نے غزہ پر قبضہ کرنے کے اپنے خیال کو کئی مرتبہ دہرایا ہے۔

ٹرمپ کی تجویز پر متعدد عرب اور مغربی ممالک کے ساتھ ساتھ اقوام متحدہ کی جانب سے فوری تنقید کی گئی ہے خاص طور پر چونکہ فلسطینیوں کی نقل مکانی بین الاقوامی دفعات اور قوانین کی خلاف ورزی ہے۔ اسرائیلی وزیر اعظم نے ٹرمپ کی تجویز کی حمایت کی ہے۔

العربیہ کی تازہ خبریں Google News کے ذریعے حاصل کریں

اسی بارے میں