mahan air

ایرانی طیارہ حزب اللہ کے لیے رقم لے کر جا رہا تھا: اسرائیلی ذرائع کا دعویٰ

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

درجنوں لبنانی زائرین کو لے کر بیروت کے ہوائی اڈے پر جانے سے روکے جانے والے ایرانی طیارے کا معاملہ اب بھی زیر بحث ہے۔ اب ایک اسرائیلی اخبار "یدیعوت احرونوت" نے اسرائیلی انٹیلی جنس ذرائع کے حوالے سے بتایا ہے کہ جس ایرانی طیارے کو بیروت ایئرپورٹ پر اترنے سے روکا گیا وہ حزب اللہ کے لیے لاکھوں ڈالر لے کر جا رہا تھا۔

ذرائع نے مزید کہا ہے کہ جو رقم ایرانی طیارے کے ذریعے منتقل کی جانی تھی وہ حزب اللہ کی بحالی میں مدد کے لیے تھی۔ دوسری طرف تہران نے بظاہر بیروت کی طرح جوابی کارروائی کرتے ہوئے دو لبنانی طیاروں کو ایرانی دارالحکومت کے ہوائی اڈے پر اترنے سے روک دیا ہے۔

لبنان کے جنرل ڈائریکٹوریٹ آف سول ایوی ایشن نے جمعرات کی شب اعلان کیا تھا کہ تہران میں پھنسے لبنانیوں کو نکالنے کے لیے دو طیارے بھیجے گئے ہیں۔

اجازت نہیں دی گئی

لبنان کی جانب سے مشرق وسطیٰ ایئرلائن کے دو طیاروں کی لینڈنگ کی درخواست ایران کی جانب سے مسترد کر دی گئی تھی۔ لبنانی شہری ہوابازی کے ذرائع نے اخبار ’’النہار‘‘کو بتایا تھا کہ ایرانی حکام نے لبنان کے دونوں طیاروں کو تہران میں اتارنے کی اجازت نہیں دی۔

ایرانی سول ایوی ایشن نے یہ کہہ کر اپنے انکار کا جواز پیش کیا تھا کہ درخواست لبنانی وزارت خارجہ کے ذریعے دونوں ممالک کے درمیان نافذ قوانین کے مطابق پہنچنی چاہیے۔

یہ پیش رفت اس وقت سامنے آئی جب لبنانی حکام نے ایرانی ماہان ایئرلائنز کو تہران سے دو شیڈول پروازیں وصول نہ کرنے کے بارے میں مطلع کیا تھا۔

العربیہ کی تازہ خبریں Google News کے ذریعے حاصل کریں

اسی بارے میں