شام کے ساتھ اعلیٰ سطحی رابطوں کی منصوبہ بندی کر رہے ہیں:روس

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

گذشتہ ہفتے روسی صدر ولادیمیر پوتین اور شام کے عبوری صدر احمد الشرع کے درمیان فون کال کے بعد روسی وزیر خارجہ سرگئی لاوروف نے بدھ کے روز اعلان کیا کہ روس مستقبل قریب میں شام کے ساتھ اعلیٰ سطحی رابطوں کا ارادہ رکھتا ہے۔

لاوروف نے روسی وفد کے دورہ شام کے نتائج کو "مثبت" قرار دیتے ہوئے کہا کہ دمشق ماسکو کے ساتھ تعلقات کے تاریخی تناظر کو سمجھتا ہے۔

یہ بات بشار الاسد کی حکومت کے خاتمے کے بعد پہلی مرتبہ گذشتہ جنوری کے آخر میں ایک اعلیٰ سطحی روسی وفد کے شام پہنچنے کے بعد سامنے آئی ہے۔

وفد میں نائب وزیر خارجہ میخائل بوگدانوف اور شام کے لیے روس کے صدر کے خصوصی ایلچی الیگزینڈر لاورینتیف شامل تھے۔

پہلا براہ راست رابطہ

صدر ولادیمیر پوتین نے 12 فروری کو شام کے صدر احمد الشرع کے ساتھ فون پر بات کی۔ پچھلے سال دسمبر میں ماسکو کے اتحادی بشار الاسد کی بے دخلی کے بعد ان کا پہلا براہ راست رابطہ تھا۔

کریملن نے اس وقت کہا تھا کہ پوتین نے شام میں سماجی اور اقتصادی صورتحال کو بہتر بنانے میں مدد کے لیے روس کی طرف سے تعاون پر زور دیا۔

دوسری طرف شامی ایوان صدر نے کہا کہ "الشرع نے پوتین کو بتایا ہے کہ شام تمام فریقوں کے لیے کھلے پن کا مظاہرہ کررہا ہے۔

روس کو شام میں دو فوجی اڈے برقرار رکھنے کی بھی امید ہے۔ وہ طرطوس میں ایک بحری اڈہ اور ساحلی شہر الاذقیہ کے قریب حمیمیم بیس روس کے پاس رہے ہیں۔

روسی وزیر خارجہ سرگئی لاوروف نے اس سے قبل وضاحت کی تھی کہ "روسی اڈوں کی تعیناتی بین الاقوامی قوانین کے قواعد کے مطابق دونوں ممالک کے درمیان طے پانے والے موجودہ بین الاقوامی معاہدوں میں طے کی گئی ہے"۔

انہوں نے کہا کہ ماسکو کو نئے حکام کی جانب سے طرطوس اور حمیمیم میں فوجی اڈوں کی موجودگی سے متعلق معاہدوں پر نظرثانی کے لیے شام کی کوئی سرکاری درخواست موصول نہیں ہوئی۔

اس کے برعکس شام کے وزیر دفاع مرہف ابو قصرہ نے گذشتہ ماہ دمشق میں ایک انٹرویو میں رائٹرز کو بتایا تھا کہ شام ماضی میں طے پانے والے معاہدوں پر کاربند ہے تاہم ان کا کہنا تھا کہ شام کے مفادات کے حصول کے لیے مذاکرات کے ذریعے ان میں کچھ ترامیم کی جا سکتی ہیں۔

الاذقیہ کے دیہی علاقوں میں روسی حمیمیم ایئر بیس کو ان اڈوں میں سب سے اہم سمجھا جاتا ہے جو ماسکو نے گذشتہ برسوں میں شام میں قائم کیے ہیں۔

جہاں تک طرطوس کے بحری اڈے کا تعلق ہے تو 18 جنوری 2017 کو ماسکو اور دمشق نے ایک معاہدے کے ذریعے اس کا قیام عمل میں لایا گیا تھا۔ معاہدے کے تحت روسی اڈہ 49 سال تک شام کے شہر طرطوس میں موجود رہے گا۔

العربیہ کی تازہ خبریں Google News کے ذریعے حاصل کریں

اسی بارے میں