ایک شخص کویتی پاسپورٹ دکھاتے ہوئے

کویت نے شہریت کی واپسی اور تنسیخ کے لیے شکایات کمیٹی تشکیل دے دی

کویت ے حالیہ دنوں میں 9000 سے زیادہ لوگوں کی شہریت منسوخ کی ہے

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

کویتی وزراء کی کونسل نے قائم مقام وزیر اعظم اور وزیر داخلہ شیخ فہد الیوسف کی زیر صدارت اپنے ہفتہ وار اجلاس میں کویتی شہریت کی واپسی اور تنسیخ کے لیے ایک شکا یات کمیٹی قائم کرنے کے فیصلے کی منظوری دی جس کی سربراہی سفارت کار علی موسیٰ الذھبی کر رہے ہیں۔

یہ قدم بہت سے لوگوں سے شہریت کی منسوخی کے بعد اٹھایا گیا ہے۔ انہوں نے انحصار، جعلسازی اور دھوکہ دہی کے ذریعے شہریت حاصل کی تھی۔ حالیہ دنوں میں کویت میں 9,464 افراد کی شہریت منسوخ کی گئی۔

جب کہ کویتی سپریم کمیٹی برائے قومیت نے شہریت کے مسائل کو منظم کرنے اور دھوکہ دہی اور جعلسازی کے واقعات کو کم کرنے کے لیے اپنی گرفت مضبوط کر رہی ہے۔ ایک سکیورٹی ذرائع نے انکشاف کیا کہ کمیٹی کو جعلسازی، دھوکہ دہی اور قومی شناخت کے ساتھ چھیڑ چھاڑ کے ہفتہ وار کیسز موصول ہوتے ہیں، قومیت کے کیسز کو حل کرنے میں دن ، مہینے اور سال لگ سکتے ہیں۔

اسی ذریعے نے انکشاف کیا کہ وہ تمام مقدمات جو کسی نہ کسی وجہ سے سپریم کمیٹی برائے نیشنلٹی یا کسی اور باڈی کے ذریعے نمٹائے جانے سے "نظر انداز" کیے گئے تھےختم ہو چکے ہیں، کیونکہ کمیٹی کو جعل سازوں کےعجیب و غریب طریقے مل رہے ہیں جو شہریت کی تحقیقات یا باقی متعلقہ اداروں کو بے وقوف نہیں بنا سکتے۔

ذریعے نے جعل سازوں کو بے نقاب کرنے کے عمل میں درپیش رکاوٹوں اور مشکلات کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہاکیونکہ اس عمل میں ٹریکنگ ریکارڈز، سرٹیفکیٹس، سرکاری کاغذات اور دیگر ممالک میں پائے جانے والے دستاویزات کے ساتھ میچنگ آپریشنز کے درمیان طویل وقت اور پیچیدہ طریقہ کار کا وقت لگتا ہے مگر اس سےو تمام شکوک ختم کردیے جاتے ہیں۔تحقیقات کے دوران اس بات کو یقینی بنانے کی کوشش کی جاتی ہے کہ کسی کے ساتھ ظلم یا نا انصافی نہ ہو۔

العربیہ کی تازہ خبریں Google News کے ذریعے حاصل کریں