شام کے وزیر خارجہ اسعد شیبانی اور کایا کلاس کی ملاقات۔

یورپ تعمیر نو سے متعلق شام پر پابندیوں کو معطل کرنے کا خواہش مند

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

رائٹرز کی رپورٹ کے مطابق ایک مسودے کے اعلان سے ظاہر ہوا ہے کہ یورپی یونین توانائی، نقل و حمل اور تعمیر نو کے شعبوں سے متعلق شام پر عائد پابندیوں کو معطل کرنے کا ارادہ رکھتی ہے۔ توقع ہے کہ یورپی یونین کے ممالک کے وزرائے خارجہ 24 فروری کو برسلز میں ہونے والے میں اجلاس میں شام کے معاملے پر بات کریں گے۔

العربیہ کے نامہ نگار نے اطلاع دی ہے کہ یورپی یونین پیر کو شام کے خلاف توانائی، نقل و حمل اور تعمیر نو کے شعبوں میں پابندیوں میں نرمی کا اعلان کرے گی۔ نامہ نگار کے مطابق یورپی یونین کے ممالک کے نمائندوں نے جمعہ کے روز شام پر عائد پابندیوں میں نرمی کے منصوبے کی منظوری دی ہے۔ العربیہ کے نمائندے نے وضاحت کی ہے کہ پابندیوں کی نرمی میں شام کی تعمیر نو سے متعلق توانائی، نقل و حمل اور مالیاتی لین دین کے شعبے شامل ہیں۔

انہوں نے کہا کہ یورپی پابندیوں کو معطل کرنے کا معاہدہ شام پر عبوری راستے کے وعدوں کا احترام کرنے سے مشروط ہے۔ یاد رہے یورپی یونین کی خارجہ پالیسی کے اہلکار کایا کالس نے گزشتہ جنوری کے آخر میں اعلان کیا تھا کہ وزراء نے بشار الاسد کی معزولی کے بعد شام پر عائد پابندیوں میں نرمی کے لیے "روڈ میپ" پر اتفاق کیا ہے۔

کالاس نے اس وقت ’’العربیہ‘‘ کو ایک بیان میں کہا تھا کہ پابندیوں میں نرمی کا انحصار شام میں ہونے والی پیش رفت کا جائزہ لینے پر ہے ۔ اس پیش رفت کی بنیاد پر شام پر سے پابندیاں بتدریج ہٹا دی جائیں گی۔ انہوں نے یہ بھی واضح کیا تھا کہ شام میں ہتھیاروں پر پابندیوں میں اب نرمی نہیں کی جائے گی۔ تین سفارت کاروں اور ایک یورپی دستاویز نے گزشتہ ماہ انکشاف کیا تھا کہ یورپی یونین مالی لین دین کے بغیر شام کے توانائی اور نقل و حمل کے شعبوں پر عائد پابندیاں معطل کر سکتی ہے۔

یونین کے 27 رکن ممالک کے متعدد سفارت کاروں نے معاشی استحکام اور شام میں معیشت کی تعمیر نو کے آغاز کے لیے ضروری شعبوں جن میں توانائی اور نقل و حمل شامل ہیں سے متعلق پابندیوں کو معطل کرنے کے لیے تیزی سے کارروائی کرنے کی سفارش کی ہے۔ یاد رہے 8 دسمبر کو شام میں سابق صدر بشار الاسد کا اقتدار ختم ہوگیا، اس کے بعد کئی مندوبین، یورپی حکام اور وزرا نے گزشتہ ہفتوں کے دوران دمشق کا دورہ کیا ہے۔

العربیہ کی تازہ خبریں Google News کے ذریعے حاصل کریں

اسی بارے میں