معاہدے کے ساتھ یا اس کے بغیر شام ، غزہ اور لبنان سے فوج واپس نہیں بلائیں گے: اسرائیل
غزہ میں جنگ بندی کا نیا معاہدہ قائم کرنے کے لیے جاری بات چیت کے باوجود اسرائیلی وزیر دفاع یسرائیل کاٹز نے زور دے کر کہا ہے کہ اسرائیلی افواج بفر زونز میں موجود رہیں گی۔
انھوں نے بدھ کے روز ایک بیان میں کہا کہ اسرائیلی فوج "غزہ کی پٹی میں کسی بھی عارضی یا مستقل صورت حال میں بفر زونز میں موجود رہے گی"۔
انہوں نے اس بات کا بھی عندیہ دیا کہ اسرائیلی فوج لبنان اور شام میں غیر معینہ مدت تک سکیورٹی زونز میں موجود رہیں گی۔
انہوں نے مزید کہا کہ "ماضی میں جو کچھ ہوا اس کے برعکس اسرائیلی فوج ان علاقوں کو خالی نہیں کرے گی جنہیں کلیئر کرنے کے بعد ان پر قبضہ کر لیا گیا ہے"۔
انہوں نے مزید کہاکہ "فوج غزہ میں کسی بھی عارضی یا مستقل صورت حال میں دشمن اور اسرائیلی برادریوں کے درمیان ایک بفر زون کے طور پر حفاظتی علاقوں میں رہے گی جیسا کہ لبنان اور شام میں ہے"۔
شام اور لبنان
حزب اللہ کے ساتھ پرتشدد جھڑپوں کے بعد 27 نومبر کو لبنان میں فائر بندی کے معاہدے کے باوجود اسرائیلی فورسز سرحد کے دونوں اطراف اور جنوبی لبنان کے پانچ اسٹریٹجک علاقوں میں تعینات ہیں۔ یہ بات قابل غور ہے کہ امریکہ کی ثالثی میں ہونے والے اس معاہدے میں واضح طور پر لبنان سے اسرائیل کے مکمل انخلاء کی شرط رکھی گئی تھی جس کے بدلے میں حزب اللہ کے دریائے لیطانی کے جنوب سے انخلاء اور اپنے ہتھیاروں اور پوزیشنوں کو فوج کے حوالے کر نے کی شرط رکھی گئی تھی۔
سابق شامی صدر بشار الاسد کی حکومت کے خاتمے کے بعد گذشتہ دسمبر سے اسرائیلی فوج بھی جنوبی شام پر حملہ کر رہی ہے۔ اس نے پہلے سے قائم غیر فوجی زون کو عبور کیا اور شام کے متعدد سرحدی علاقوں میں پوزیشنیں اور چوکیاں قائم کر لیں۔