Palestinians receive bags of flour and other humanitarian aid distributed by UNRWA, the U.N. agency helping Palestinian refugees in Jabaliya, Gaza Strip on Tuesday, April 1, 2025. (AP Photo/Jehad Alshrafi)

فوجی و نجی کمپنیوں کے ذریعے خوراک کی ترسیل کے اسرائیلی منصوبے پر تنقید

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

غزہ میں اسرائیلی فوج کی طرف سے امدادی کام سے روک دیے گئے امدادی کارکنوں نے اس امر پر تنقید کی ہے کہ اسرائیلی فوج انسانی بنیادوں پر امداد کی تقسیم کا کام خود سنبھالے گی اور اس مقصد کے لیے اسرائیلی فوج اپنی پسند کی نجی کمپنیوں سے مدد لے گی۔

رضاکارانہ طور پر اہل غزہ کے لیے امدادی سرگرمیاں انجام دینے والے اداروں نے اسرائیلی فوج کی اس نئی حکمت عملی پر سخت تنقید کی ہے۔ واضح رہے اسرائیلی فوج گاہے بگاہے جب چاہے غزہ میں لاکھوں فلسطینیوں کے لیے پانی و بجلی کی بندش کرنے اور خوراک کی ترسیل روکنے کے لیے ناکہ بندی کر دیتی ہے۔

اس سے پہلے بھی اسرائیلی فوج اسی طرح کی ناکہ بندی کے ذریعے غزہ میں انسانی ساختہ قحط ملسط کر چکی ہے۔ جبکہ ان دنوں اسرائیل کی اب تک کی طویل ترین ناکہ بندی جاری ہے۔

جس کے بعد اسرائیلی فوج نے بین الاقوامی سطح پر مسلمہ این جی اوز کے ذریعے خوراک اور امدادی سامان تقسیم کرنے کو اب بھی روکنا اور اسرائیلی فوجیوں کے ذریعے امداد تقسیم کرنے کا اعلان کیا ہے۔

اسرائیل ابھی اس منصوبے کی بہت تھوڑی معلومات سامنے لایا ہے۔ جس کا پہلا اظہار پیر کے روز کیا گیا ہے۔

اس موقع پر کہا گیا ہے کہ اسرائیلی فوج اور اس کی مرضی کی نجی تنظیموں کے ذریعے امدادی سامان تقسیم کرنے کا مطلب جب چاہا جیسے چاہا غزہ کی ناکہ بندی کرنا ہے۔

اسرائیلی حکام کا کہنا ہے کہ ناکہ بندی اس وقت تک جاری رہے گی جب تک کہ فلسطینی شمالی و وسطی غزہ سے جنوب کی طرف نہیں چلے جاتے۔

بتایا گیا ہے کہ اسرائیلی فوج اس سلسلے میں امدادی سامان کی جانچ پڑتال کرے گی اور یہ یقینی بنائے گی کہ حماس تک یہ امداد نہ پہنچ سکے۔

خیال رہے اسرائیلی فوج غزہ کے ایک تہائی علاقے سے فلسطینیوں کا انخلاء کر چکی ہے۔

اقوام متحدہ کے ادارے 'او سی ایچ اے' نے منگل کے روز کہا ہے کہ یہ فیصلہ کسی ضرورت کے بالکل برعکس ہے۔ علاوہ ازیں دیگر امدادی تنظیموں اور اداروں نے بھی اسرائیلی فوج کے اس منصوبے پر سوال اٹھایا ہے۔'

دو امدادی کارکنوں نے اس بارے میں بات کرتے ہوئے کہا ہے کہ انہیں زبانی طور پر اس سلسلے میں بریفنگ دی گئی ہے۔

'نارویجن ریفیوجی کونسل' کے سیکرٹری جنرل جان ایجلینڈ نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم 'ایکس' پر کہا ہے کہ اسرائیل کا جنگ کے ایک فریق ہونے کے ناطے امدادی سامان کی تقسیم کا کنٹرول سنبھالنا غلط ہے۔ انہوں نے کہا یہ منصوبہ انسانی اصولوں کی مکمل خلاف ورزی ہے۔

تقسیم کی پیچیدگی

امدادی تنظیموں نے اسرائیل پر الزام لگایا ہے کہ غزہ میں امداد کی تقسیم کی پیچیدگیوں کو اسرائیل جان بوجھ کر نظر انداز کر رہا ہے۔

اسرائیل کا کہنا ہے کہ غزہ میں امداد کی تقسیم روکنا حماس کی قید میں موجود 59 اسرائیلی قیدیوں کی رہائی کے لیے حماس پر دباؤ ڈالنے کے لیے ہے۔

امدادی کارکنوں میں سے ایک سے نے کہا ہے کہ فلسطینی یہ سمجھتے ہیں کہ اسرائیل امدادی سامان کا کنٹرول اپنے قبضے میں کر کے غزہ سے فلسطینیوں کو نکلنے پر مجبور کرنا چاہتا ہے۔ اس کارکن نے کہا 'کیا دشمن آپ کو امداد فراہم کرے گا؟'

العربیہ کی تازہ خبریں Google News کے ذریعے حاصل کریں