اسرائیل نے شام میں پیراٹروپرز بریگیڈ کو ریزرو فورسز سے تبدیل کر دیا

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

اتوار کے روز اسرائیلی فوج نے اعلان کیا ہے کہ پیراٹروپرز بریگیڈ نے پانچ ماہ کی کارروائیوں کے بعد گولان کی پہاڑیوں اور جنوبی شام میں اپنا مشن ختم کر دیا ہے۔ فوج نے مزید کہا کہ پیراٹروپرز بریگیڈ غزہ کی پٹی میں کارروائیوں کو وسیع کرنے کی تیاری کے طور پر اضافی مشنز انجام دینے کی تیاری کر رہا ہے۔ فوج نے کہا کہ بریگیڈ نے شامی ٹھکانوں پر درجنوں حملے کیے جن کے دوران سینکڑوں ہتھیار ضبط کیے گئے۔

اسرائیلی فوج نے واضح کیا ہے کہ وہ آنے والے دنوں میں شام میں پیراٹروپرز بریگیڈ کے مشنز انجام دینے کے لیے ریزرو فورسز کو تعینات کرے گی۔ فوج کے ترجمان ادرائی نے پلیٹ فارم "ایکس" پر ایک پوسٹ میں بتایا کہ فورسز فی الحال 98 ویں ڈویژن کی کمانڈ کے تحت وہاں زمینی کارروائی کو وسیع کرنے کی کوششوں کے تحت غزہ کی پٹی میں اضافی مشنز انجام دینے کی تیاری کر رہی ہیں۔

اسرائیلی فوجی ترجمان نے مزید کہا کہ شمال میں تعیناتی کے دوران پیراٹروپرز بریگیڈ کی فورسز نے 210 ویں ڈویژن کے جنگی عملے کے تعاون سے شامی سرزمین کے اندر اہداف پر درجنوں چھاپے مارے جس کے نتیجے میں سینکڑوں جنگی ذرائع ضبط اور تباہ کیے گئے۔

ادرائی نے کہا کہ شمالی محاذ پر فوجی سرگرمیاں جاری رکھنے کے لیے پیراٹروپرز بریگیڈ کی جگہ ریزرو فورسز تعینات کی جائیں گی۔ بشار الاسد حکومت کے خاتمے کے بعد شام پر اسرائیلی حملے بہت زیادہ بڑھ گئے ہیں۔ اسرائیل نے شامی فوج کے عسکری ٹھکانوں پر سینکڑوں فضائی حملے کیے ہیں تاکہ انہیں تباہ کیا جا سکے اور ان کے بنیادی ڈھانچے کی بحالی کو روکا جا سکے۔ یہ حملے دمشق، قنیطرہ اور درعا کے دیہی علاقوں میں کیے گئے زمینی حملوں کے ساتھ ہم آہنگ تھے۔

العربیہ کی تازہ خبریں Google News کے ذریعے حاصل کریں

اسی بارے میں