جنوبی غزہ کی پٹی کے خان یونس میں غزہ کی وزارتِ صحت کے مطابق 13 مئی 2025 کو اسرائیلی فضائی حملوں میں یورپیئن ہسپتال کو جزوی طور پر نقصان پہنچا جس کے بعد فلسطینی نقصان کا جائزہ لے رہے ہیں۔ (رائٹرز)
اردن کی جانب سے غزہ کے یورپی ہسپتال پر اسرائیلی حملے کی مذمت
ہسپتال غیر فعال، کم از کم 28 افراد کی اموات
اردن نے جمعہ کے روز خان یونس میں یورپی ہسپتال پر اسرائیلی حملے کی شدید مذمت کی جس کے نتیجے میں ہسپتال غیر فعال ہو گیا اور کم از کم 28 افراد کی اموات واقع ہوئی۔
وزارت برائے امورِ خارجہ و تارکینِ وطن نے اس حملے کو بین الاقوامی انسانی قانون، بین الاقوامی قانونی اصولوں اور بوقتِ جنگ شہریوں کے تحفظ سے متعلق 1949 کے جنیوا کنونشن کی "صریح خلاف ورزی" قرار دیا۔
وزارت کے ترجمان سفیان القضاۃ نے غزہ میں جاری اسرائیل کی فوجی کارروائیوں کے خلاف اردن کی سخت مخالفت کا اعادہ کیا۔
انہوں نے عام شہریوں اور اہم بنیادی ڈھانچے کو منظم طریقے سے نشانہ بنانے کی مذمت کی اور اسرائیل پر فلسطینیوں کو زبردستی بے گھر کرنے کے لیے ناکہ بندی اور فاقہ کشی کے حربے استعمال کرنے کا الزام لگایا۔
القضاء نے علاقائی سلامتی اور استحکام پر اسرائیل کے اقدامات کے سنگین اثرات کے بارے میں بھی خبردار کیا۔
انہوں نے بین الاقوامی برادری پر زور دیا کہ وہ اپنی اخلاقی اور قانونی ذمہ داریاں ادا کرتے ہوئے اسرائیل پر دباؤ ڈالے کہ وہ غزہ میں اپنی فوجی مہم ختم کرے، کھلی راہداریوں سے انسانی امداد کی ترسیل کی اجازت دے اور 1967 سے پہلے کی سرحدوں پر مبنی ایک آزاد ریاست کے قیام کا فلسطینیوں کا حق تسلیم کرے۔
حملے کے بعد برطانوی ڈاکٹر ٹام پوٹوکر نے ہسپتال کے اندر کی فوٹیج جاری کی جس کے بعد اس کی بین الاقوامی مذمت ہوئی۔
غزہ میں کام کرنے والے کنسلٹنٹ پلاسٹک سرجن نے بی بی سی کو بتایا کہ ہسپتال پر چھے بم حملے ہوئے جس کے نتیجے میں یہ "مکمل تباہ" ہو گیا۔