غزہ کے شہری دفاع کے ترجمان محمود باسل۔ (ایکس)
اسرائیل کی فوج نے اتوار کے روز غزہ میں شہری دفاع کے ترجمان پر حماس کا "دہشت گرد" ہونے کا الزام عائد کیا۔ ترجمان نے الزام کی تردید کی ہے۔ شہری دفاع جنگ سے تباہ حال فلسطینی سرزمین پر کام کرنے والا ایک امدادی گروپ ہے۔
غزہ جارحیت کے دوران ملنے والی دستاویزات کا حوالہ دیتے ہوئے فوج نے کہا، محمود بصل مزاحمتی گروپ میں "ایک فعال دہشت گرد" ہے۔
فوج نے میڈیا کو حماس کی رکنیت والی فہرستوں کی نقول جاری کیں مگر یہ واضح نہیں کیا کہ یہ دستاویزات کہاں سے اور کیسے حاصل کی گئیں۔
اسرائیلی فوج نے بصل پر الزام لگایا کہ وہ غزہ میں فوج کی کارروائیوں کے بارے میں غلط اور غیر تصدیق شدہ معلومات پھیلا کر حماس کے مقاصد کی تکمیل کر رہے تھے۔
باسل نے اے ایف پی کو بتایا، "یہ ایک جھوٹا الزام ہے۔ میں کسی فوجی تنظیم کے لیے کام نہیں کرتا۔ ایجنسی کا مشن بین الاقوامی قانون کے مطابق ہے۔"
شہری دفاع کا ادارہ غزہ کی پٹی میں کئی عشروں سے کام کر رہا ہے جو اسرائیلی فضائی حملوں کے متأثرین کو ہسپتال پہنچانے کے لیے امدادی کارکنان تعینات کرتا ہے۔
اکثر بین الاقوامی میڈیا آؤٹ لیٹس اپنی خبروں میں تنظیم کا حوالہ دیتے ہیں۔
رسائی محدود ہونے اور زمینی افراتفری کے حالات کی بنا پر ایجنسی کی اطلاع کردہ ہلاکتوں کے اعداد و شمار یا اموات کے حالات کی آزادانہ طور پر تصدیق کرنا تقریباً ناممکن ہوتا ہے۔
فوج کا یہ الزام ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب اسے شہری دفاع کی جانب سے تنقید کا سامنا ہے۔ ادارے کا الزام ہے کہ اسرائیلی افواج نے حال ہی میں خوراک کے تقسیمی مراکز کے قریب شہریوں کو ہلاک کیا۔