عناصر من حماس في غزة - فرانس برس
امریکہ کی حماس اور عوامی محاذ سے وابستہ فلاحی اداروں پر پابندیاں
امریکی محکمہ خزانہ کے مطابق یہ اقدامات حماس اور پی ایف ایل پی کو مالی معاونت روکنے کے لیے کیے گئے ہیں
امریکہ نے منگل کے روز چند افراد اور نام نہاد "فلاحی تنظیموں" پر نئی اقتصادی پابندیاں عائد کی ہیں، جن پر الزام ہے کہ وہ فلسطینی تنظیم حماس اور "عوامی محاذ برائے آزادیٔ فلسطین" (پی ایف ایل پی) کو مالی معاونت فراہم کرتی ہیں۔ یہ بات امریکی محکمہ خزانہ کی ویب سائٹ پر جاری ایک بیان میں کہی گئی ہے۔
محکمہ خزانہ کے مطابق یہ پابندیاں ان کوششوں کا تسلسل ہیں جن کا مقصد ایسی تنظیموں کی مالی رسائی کو محدود کرنا ہے جو تشدد اور بدامنی کو فروغ دے سکتی ہیں۔
بیان میں واضح کیا گیا کہ ان مخصوص اداروں اور افراد کو ہدف بنانے کا مقصد ان تنظیموں کی مالیاتی سرگرمیوں کو سخت نگرانی میں لانا ہے، جنہیں امریکہ نے امن کے لیے خطرہ قرار دیا ہے۔
Your browser doesn’t support HTML5 video
امریکی حکومت کا کہنا ہے کہ یہ تازہ اقدامات موجودہ جیوپولیٹیکل تناؤ اور بین الاقوامی تنازعات سے نمٹنے کے لیے اس کی معاشی حکمتِ عملی کا حصہ ہیں، جو معروف دہشت گرد تنظیموں کو نشانہ بنانے پر مشتمل ہے۔
امریکہ اور برطانیہ کی مشترکہ کارروائی
ڈیڑھ سال قبل غزہ میں شروع ہونے والی جنگ کے بعد سے، امریکہ اور برطانیہ نے کئی فلسطینی شخصیات پر پابندیاں عائد کی ہیں، جن پر الزام ہے کہ وہ حماس کے غیر ملکی مفادات کو بڑھانے اور مالیاتی نیٹ ورک کو سنبھالنے میں کردار ادا کرتے رہے ہیں۔
ان پابندیوں کا دائرہ ان افراد اور ثالثوں تک بھی پھیلایا گیا ہے جو حماس اور اس کی اتحادی تنظیم "حرکتِ جہادِ اسلامی" سے منسلک ہیں، جو اس وقت غزہ میں اسرائیل کے خلاف جاری جنگ میں حماس کے ساتھ شریک ہے۔