پناہ گاہوں میں اسرائیلی شہری
تل ابیب پر ایرانی حملے کے بعد اسرائیلی فوجیوں کی پناہ گاہوں میں چھپنے کی ویڈیو منظر عام پر
اسرائیل اور ایران کے درمیان جاری کشیدگی کے دوران ایک نئی ویڈیو سوشل میڈیا پر وائرل ہوئی ہے جس میں قابض اسرائیلی فوجیوں کو پناہ گاہوں میں چھپتے ہوئے دیکھا جا سکتا ہے۔
یہ ویڈیو حالیہ چند گھنٹوں میں سوشل میڈیا پلیٹ فارمز پر بڑی تیزی سے پھیلی، حالانکہ اسرائیل کی داخلی محاذ سے منسلک حکام کی جانب سے ایسے مناظر کی عکس بندی سے باز رہنے کی تنبیہ کی گئی تھی۔
ویڈیو میں دیکھا جا سکتا ہے کہ تل ابیب پر ایرانی حملے کے دوران قابض اسرائیلی فوجی عام شہریوں کے ساتھ زیر زمین پناہ گاہوں میں چھپے ہوئے ہیں۔
یہ ویڈیو ایک اسرائیلی فوجی نے خود بنائی تھی، جسے سوشل میڈیا پر درجنوں بار شیئر کیا گیا۔
یہ مناظر ایک ایسے وقت سامنے آئے ہیں جب قابض اسرائیل اور ایران کے درمیان جھڑپوں کا سلسلہ مسلسل پانچویں روز بھی جاری ہے اور دونوں جانب سخت کشیدگی پائی جا رہی ہے۔
ٹرمپ کا بیان: تہران خالی کر دو!
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے منگل کی صبح ایک بیان میں فوری طور پر ایرانی دارالحکومت تہران کو خالی کرنے کی اپیل کی اور یہ موقف دہرایا کہ ایران کو امریکہ کے ساتھ جوہری معاہدہ کر لینا چاہیے تھا۔
ٹروتھ سوشل پر ایک پوسٹ میں انہوں نے لکھا کہ "ایران کو جوہری ہتھیار حاصل کرنے کی اجازت نہیں دی جا سکتی. میں یہ بات بارہا دہرا چکا ہوں! تہران کو فوراً خالی کیا جائے!"
انہوں نے انسانی جانوں کے ضیاع کو افسوسناک قرار دیا۔
دوسری جانب ایرانی میڈیا نے اطلاع دی ہے کہ تہران میں زوردار دھماکوں کی آوازیں سنی گئیں اور شہر میں فضائی دفاعی نظام کو فعال کر دیا گیا ہے۔
قابض اسرائیل نے 13 جون کی رات "رائزنگ لائن " کے نام سے ایک فوجی کارروائی کے دوران ایران کے جوہری پروگرام کو نشانہ بنایا، جس میں تہران میں واقع متعدد عسکری تنصیبات، جوہری مراکز، پولیس ہیڈکوارٹرز اور وزارت خارجہ کی عمارت پر بمباری کی گئی۔
اس حملے میں ایران کے درجنوں اعلیٰ فوجی کمانڈرز اور جوہری سائنسدانوں کو بھی نشانہ بنا کر قتل کیا گیا۔ اس کے جواب میں ایران نے 24 گھنٹے سے بھی کم وقت میں جوابی کارروائی کرتے ہوئے سینکڑوں میزائل داغے۔