غزہ : اسرائیلی فوج نے 25 مزید فلسطینی قتل کردیے، 6 مقتولین خوراک لینے والوں کی قطارمیں تھے

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

غزہ کے شہری دفاع کے ادارے نے بدھ کے روز اسرائیلی فوج کے ہاتھوں قتل ہونے والے مزید 20 فلسطینیوں کے بارے میں ایک بیان جاری کیا ہے۔ اسرائیلی فوج کے اس حملے میں قتل ہونے والے 20 میں 6 وہ فلسطینی بھی شامل تھے جو زیر محاصرہ غزہ میں امدادی ادارے سے خوراک لینے کے لیے قطار میں کھڑے تھے۔

امدادی تنظیم کے مرکز کے نزدیک خوراک کے حصول کے لیے آنے والے فلسطینیوں کے قتل کا یہ تازہ ترین واقعہ ہے اور یہ اس وقت پیش آیا ہے جب اقوام متحدہ نے جنگ زدہ غزہ میں اسرائیل کی طرف سے خوراک کی تقسیم کو ایک جنگی حکمت عملی کے طور پر اختیار کرنے کی مذمت کرتے ہوئے کہا کہ اسرائیل خوراک کو ہتھیار کے طور پر استعمال کر رہا ہے۔

یاد رہے غزہ میں خوراک لینے والوں کے قتل کے یہ واقعات امریکہ و اسرائیل کے حمایت یافتہ امدادی ادارے 'غزہ فاؤنڈیشن' کے مرکز کے قریب ہو رہے ہیں۔

جب سے 'غزہ فاؤنڈیشن' غزہ میں قحط کے قریب پہنچے فلسطینیوں میں خوراک تقسیم کر رہی ہے یہ خوراک فلسطینیوں کے لیے بہت مہلک اور جان لیوا ثابت ہو رہی ہے۔

اقوام متحدہ نے شروع سے ہی 'غزہ فاؤنڈیشن' اور امریکہ و اسرائیل کے اس تقسیم خوراک کے منصوبے کو متنازعہ قرار دیا ہے۔

شہری دفاع کے ترجمان محمود باسل کا کہنا ہے کہ 6 افراد کے قتل کے علاوہ خوراک لینے والوں کے ہجوم میں کھڑے مزید 30 فلسطینی زخمی ہوئے ہیں۔

اس طرح کے واقعات اب غزہ میں عام وہ چکے ہیں اور اسرائیلی فوج خوراک کے لیے جمع ہونے والے ہجوم پر کسی بھی وقت شبہ ظاہر کر کے فائرنگ شروع کر دیتی ہے۔ فلسطینیوں کے قتل کا یہ تازہ واقعہ وسطی غزہ میں پیش آیا ہے۔

خیال رہے امدادی تنظیم کے مرکز کے باہر بھوک زدہ فلسطینی رات کے وقت ہی جمع ہونا شروع ہو جاتے ہیں تاکہ خوراک لینے میں کامیاب ہو سکیں اور ان کی باری آنے تک خوراک ختم نہ ہوجائے۔ تاہم اکثر انہیں خوراک کی جگہ موت دے دی جاتی ہے۔

محمود باسل نے اس واقعے کے بارے میں بتایا کہ یہ خونی واقعہ ٹینک سے کی گئی گولہ باری کے نتیجے میں پیش آیا۔ جس کا درجنوں افراد نشانہ بنے۔ 6 جاں بحق ہوئے اور 30 زخمی ہوئے۔

بین الاقوامی خبر رساں ادارے 'اے ایف پی' نے اسرائیلی فوج سے اس واقعے کے بارے میں رابطہ کیا تو اسرائیلی فوج نے کہا کہ ہم اس واقعے سے متعلق خبروں کو دیکھ رہے ہیں۔

فلسطینی پناہ گزینوں کے لیے قائم اقوام متحدہ کے ادارے 'انروا' نے امریکہ و اسرائیل کی قائم کردہ 'غزہ فاؤنڈیشن' اور اس کی خوراک تقسیم کرنے کے منصوبے کو گھناؤنا قرار دیا جو فلسطینیوں میں خوراک کے نام پر موت بانٹ رہا ہے۔

اقوام متحدہ کے انسانی حقوق کے دفتر نے غزہ میں ہونے والے ان واقعات کی مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ ہم خوراک کو ہتھیار بنانے کی مذمت کرتے ہیں۔

اسرائیل نے بظاہر ماہ مئی میں ناکہ بندی کو نرم کیا ہے لیکن امدادی اداروں اور آزاد تنظیموں کی طرف سے خوراک و امداد کی تقسیم پر اب بھی پابندی ہے۔

مئی کے اواخر سے اب تک خوراک کے حصول میں کوشاں تقریباً 500 فلسطینیوں کو اسرائیلی فوج قتل تک چکی ہے۔

منگل کے روز بھی غزہ کے شہری دفاع کے ادارے نے رپورٹ کیا تھا کہ خوراک اور امداد کے منتظر 46 فلسطینیوں کو اسرائیلی فوج نے ہلاک کیا ہے۔

تاہم 'غزہ فاؤنڈیشن' نامی تنظیم اپنے مراکز کے نزدیک ہونے والے ان خونی واقعات کی ذمہ داری لینے سے انکاری ہے۔

ترجمان شہری دفاع نے علاوہ ازیں بدھ کے روز وسطی و شمالی غزہ پر کیے گئے اسرائیلی حملوں میں 14 فلسطینیوں کے قتل ہونے کی تصدیق کی ہے۔

محمود باسل کے مطابق نصیرات پناہ گزین کیمپ میں صبح سویرے اسرائیلی بمباری کے تیجے میں ایک بچے سمیت 6 افراد ہلاک ہوگئے ۔ جبکہ دیر البلاح اور غزہ شہر کے مشرق میں دو الگ الگ واقعات میں مکانات کو تباہ کیا گیا۔

غزہ میں اسرائیلی فوج کی طرف سے میڈیا پر مسلسل پابندیاں چلی آرہی ہیں ۔ جس کی وجہ سے 'اے ایف پی' کے نمائندہ کو بھی آزادانہ متاثرہ جگہ پر پہنچنے میں سخت دقت کا سامنا ہے۔

اب تک غزہ میں اسرائیلی فوج مجموعی طور 56077 فلسطینیوں کو قتل کر چکی ہے۔ جن میں بری تعداد فلسطینی عورتوں اور بچوں کی ہے۔

العربیہ کی تازہ خبریں Google News کے ذریعے حاصل کریں

اسی بارے میں