اسرائیل کی موساد انٹیلی جنس ایجنسی کے سربراہ ڈیوڈ بارنیا
اسرائیل کی موساد انٹیلی جنس ایجنسی کے سربراہ ڈیوڈ بارنیا نے کہا ہے کہ اسرائیل مستقبل کے خطرات کو روکنے کے لیے ایران کے ہر منصوبے کی کڑی نگرانی کرے گا جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ ایرانی جوہری خطرہ کم ہو گیا ہے۔ ایران کے خلاف 12 روزہ اسرائیلی آپریشن کے نتائج پر اپنے پہلے عوامی تبصرے میں بارنیا نے کہا ہے کہ ایرانی خطرہ، جو کئی دہائیوں سے ہماری سلامتی کو خطرے میں ڈال رہا ہے، ہمارے اتحادی امریکہ کی حمایت سے ناکام بنا دیا گیا ہے۔
ینیٹ نیوز ویب سائٹ کے مطابق بارنیا جو عام طور پر عوامی بیانات دینے سے گریز کرتے ہیں، نے اس بات پر بھی زور دیا کہ اسرائیل کے اندر اور باہر موساد کے ایجنٹ آپریشن کے آغاز سے ہی اسرائیلی فوج کے ساتھ "شامل" ہو رہے ہیں۔ انہوں نے بات جاری رکھی اور کہا کہ صحیح انٹیلی جنس اور جدید ٹیکنالوجی کے ذریعے ہم نے اسرائیلی فوج کو ایرانی جوہری منصوبے پر حملہ کرنے اور میزائل کے خطرے کو کم کرنے میں مدد کی ہے۔
اپنی طرف سے اسرائیلی چیف آف اسٹاف ایال زامیر نے بدھ کے روز کہا کہ ہمارا اندازہ ایران کے جوہری منصوبے کو شدید نقصان کی نشاندہی کرتا ہے۔ انہوں نے بدھ کے روز ایک بیان میں مزید کہا ہے کہ ہم ایران کو بڑے پیمانے پر تباہی پھیلانے والے ہتھیار تیار کرنے کی اجازت نہیں دیں گے۔ ایرانی جوہری پروگرام برسوں پیچھے رہ گیا ہے۔ دریں اثناء اسرائیلی اندازوں نے اشارہ دیا ہے کہ ایرانی جوہری پروگرام میں ڈھائی سے تین سال کی تاخیر ہوئی ہے۔ ایرانی وزارت خارجہ نے آج اعتراف کیا ہے کہ ملک کی جوہری تنصیبات کو شدید نقصان پہنچا ہے۔
ایسوسی ایٹڈ پریس کے مطابق ایرانی وزارت خارجہ کے ترجمان نے کہا کہ امریکی حملوں سے جوہری تنصیبات کو "شدید نقصان" پہنچا ہے۔ یہ بات امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی ہیگ میں نیٹو سربراہی اجلاس کے موقع پر نیٹو کے سیکرٹری جنرل مارک روٹے سے ملاقات کے دوران اس بات کی تصدیق کے بعد سامنے آئی ہے کہ امریکی حملے نے ایرانی جوہری تنصیبات کو مکمل طور پر تباہ کر دیا ہے۔ ٹرمپ نے تصدیق کی کہ امریکی حملے کے نتیجے میں ایران کی جوہری تنصیبات مکمل طور پر تباہ ہو گئی ہیں۔