فائل فوٹو: ریاض، سعودی عرب میں ایک ڈرون منظر شہر کا منظر دکھاتا ہے - 15 نومبر 2024 REUTERS/محمد بن منصور/فائل فوٹو
2025 میں سعودی شرح نمو 3.5 فیصد ہونے کی توقع : آئی ایم ایف
بین الاقوامی مالیاتی فنڈ نے جمعرات کو سعودی عرب کے لیے اپنی مالیاتی پیش گوئی کرتے ہوئے کہا ہے 2025 کے دوران سعودی عرب کی شرح نمو تین فیصد سے بڑھ کر ساڑھے تین فیصد ہونے کی توقع ہے۔ آئی ایم ایف نے یہ پیش گوئی بدھ کے روز کی ہے۔
اس کی وجوہات بیان کرتے ہوئے آئی ایم ایف نے کہا جزوی طور پر اس بہتری کی وجہ حکومتی منصوبوں کی طلب اور ان میں دلچسپی کا بڑھنا ہے۔ نیز اوپیک پلس میں تیل کی پیداوار میں کٹوتیوں کو مرحلہ وار کرنے کی حمایت کرنا ہے۔
خیال رہے تیل کی کم قیمتوں سے سعودی عرب کی آمدنی میں کمی سے بوجھ پڑا ہے۔
سعودی عرب نے رواں سال کے دوران تقریباً 27 ارب ڈالر کے مالی خسارے کا امکان ظاہر کیا ہے۔
اس کے باوجود مملکت نے اپنے ترقیاتی منصوبوں پر اخراجات کو بڑھاوا دینے کی کوشش کی ہے۔ وجہ ویژن 2030 ہے۔
اس ویژن کے تحت سعودی کے مقاصد میں یہ شامل ہے کہ ذرائع آمدنی میں تنوع پیدا کرنا اور سیاحت کو بھی آمدنی کا ایک بڑے ذریعے میں بدلنا ہے جو ویژن 2030 کا اہم ہدف ہے۔
بین الاقوامی مالیاتی ادارے 'آئی ایم ایف' کی رپورٹ کے مطابق مضبوط مقامی طلب بشمول حکومت کے زیر قیادت منصوبوں اور عالمی سطح پر بے یقینی کی غیر معمولی صورتحال کے باوجود ترقی آگے بڑھ رہی ہے۔
سعودی وزیر خزانہ محمد الجدعان نے کہا کہ مملکت تیل کی آمدنی میں نمایاں کمی کے جواب میں اپنے اخراجات کی ترجیحات کا جائزہ لے گی۔
یاد رہے سعودی عرب اپنے ویژن 2030 کے مطابق تعمیراتی ، ترقیاتی اور سیاحتی منصوبوں پر خوب اخراجات کر رہا ہے جبکہ اگلے برسوں کے دوران بھی سپورٹس کے بین الاقوامی ایونٹس کی میزبانی سعودی عرب کرنے جا رہا ہے۔
جیسا کہ 2029 ایشین واٹر گیمز اور 2034 میں فیفا کا ورلڈ کب کی میزبانی بھی مملکت ہی کرنے جارہی ہے۔ اس مقصد کے لیے 11 نئے سٹیڈیم بھی تعمیر کیے جارہے ہیں۔
'آئی ایم ایف' کی رپورٹ کے مطابق خسارے کی وجہ سے مملکت لون لے سکتی ہے ۔