Mideast Wars Gaza Hospital Photo Essay

ایندھن کی قلت سے غزہ کے سب سے بڑے ہسپتال کے قبرستان میں تبدیل ہو جانے کا خدشہ ہے: ڈاکٹر

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

غزہ کے سب سے بڑے طبی مرکز میں پریشان حال ڈاکٹر اور مریض جلد ہی ایندھن کی کمی کے باعث تاریکی میں ڈوب سکتے ہیں۔ جیسا کہ اسرائیل اپنی فوجی مہم کے دباؤ میں اضافہ کر رہا ہے تو ڈاکٹروں نے کہا ہے کہ الشفاء ہسپتال کے مفلوج ہو جانے کا خدشہ ہے۔ وہاں کے ڈاکٹروں نے بتایا ہے کہ الشفاء کے مریضوں کو انتہائی خطرے کا سامنا ہے۔

غزہ کی وزارتِ صحت کے ڈائریکٹر جنرل ڈاکٹر منیر البورش نے رائٹرز کو بتایا، یہ خطرہ "نہ تو فضائی حملے سے اور نہ ہی میزائل سے ہے بلکہ ایندھن کے داخلے کو روکنے والے محاصرے" سے ہے۔

انہوں نے کہا، یہ کمی "ہسپتال کو ایک خاموش قبرستان میں تبدیل کر کے اِن کمزور لوگوں کو طبی نگہداشت کے بنیادی حق سے محروم کر رہی ہے۔"

اسرائیل کے فضائی حملوں اور مسلسل بمباری نے غزہ کے ہسپتالوں کو شدید نقصان پہنچایا ہے۔

فلسطینیوں اور طبی کارکنان نے اسرائیلی فوج پر ہسپتالوں پر حملے کا الزام لگایا ہے جسے وہ مسترد کرتا ہے۔

اس کے برعکس اسرائیل حماس پر طبی مراکز سے کارروائی کرنے اور ان کے زیرِ زمین کمانڈ سینٹر چلانے کا الزام لگاتا ہے جس کی حماس تردید کرتی ہے۔

طبی نگہداشت، خوراک اور پانی کے ضرورت مند مریض اس کی قیمت ادا کر رہے ہیں۔

ڈبلیو ایچ او نے کہا ہے کہ تنازع شروع ہونے کے بعد سے اب تک صحت کے مراکز پر 600 سے زیادہ حملے ہو چکے ہیں۔ انہوں نے غزہ میں صحت کے شعبے کو "انہدام کا شکار" قرار دیا ہے جسے ایندھن، طبی سامان کی قلت اور بار بار بڑے پیمانے پر ہلاکتوں کا سامنا ہے۔

اقوامِ متحدہ کی ایجنسی کے مطابق غزہ کے 36 جنرل ہسپتالوں میں سے صرف نصف جزوی طور پر کام کر رہے ہیں۔

الشفاء کے ڈائریکٹر ڈاکٹر محمد ابو سلمیہ نے ایک انسانی تباہی سے خبردار کیا کہ ایندھن کے بحران کے باعث ہسپتال کے آپریشنز، پانی صاف کرنے والے پلانٹس اور پانی کی فراہمی کے نظام کو براہِ راست خطرہ لاحق ہے۔

انہوں نے اسرائیل پر الزام لگایا کہ وہ غزہ کے ہسپتالوں کو ایندھن کی "تھوڑی تھوڑی مقدار" فراہم کر رہا ہے۔

اسرائیلی فوجی امداد کی رابطہ کار ایجنسی کوگاٹ نے فوری طور پر غزہ کی طبی سہولیات میں ایندھن کی قلت اور مریضوں کو لاحق خطرے کے بارے میں تبصرہ کرنے کی درخواست کا جواب نہیں دیا۔

آکسیجن کا خطرہ

ابو سلمیہ نے کہا کہ انتہائی نگہداشت یونٹ اور آپریٹنگ رومز چند منٹوں کے لیے بھی بجلی کے بغیر نہیں رہ سکتے تو ان کی حفاظت کے لیے الشفاء کا شعبہ ڈائیلاسز بند کر دیا گیا تھا۔

انہوں نے کہا، غزہ شہر کے ہسپتالوں میں 100 کے قریب قبل از وقت پیدا ہونے والے بچے ہیں جن کی زندگیوں کو شدید خطرہ لاحق ہے۔

ابو سلمیہ نے مزید کہا، "آکسیجن سٹیشن کام کرنا بند کر دیں گے۔ اس کے بغیر ہسپتال اب ہسپتال نہیں رہے گا۔ لیب اور بلڈ بنک بند ہو جائیں گے اور فریج میں موجود خون کے یونٹ خراب ہو جائیں گے۔ ہسپتال وہاں موجود لوگوں کے لیے قبرستان بن سکتا ہے۔"

خان یونس میں الناصر میڈیکل کمپلیکس کے اہلکار بھی حیران و پریشان ہیں کہ وہ ایندھن کے بحران سے کیسے نمٹیں گے۔ ہسپتال کے ترجمان محمد صقر نے کہا، ہسپتال کو روزانہ 4,500 لیٹر ایندھن کی ضرورت ہوتی ہے اور اب اس کے پاس صرف 3,000 لیٹر ہے جو 24 گھنٹے کے لیے ہی کافی ہے۔

انہوں نے کہا، ڈاکٹر بجلی یا ایئرکنڈیشن کے بغیر سرجری کر رہے ہیں۔ عملے کا پسینہ مریضوں کے زخموں میں ٹپکتا ہے۔

غزہ سے حال ہی میں واپس آنے والے اقوامِ متحدہ کے ادارہ برائے اطفال یونیسیف کے ترجمان جیمز ایلڈر نے کہا، "آپ کے پاس کرۂ ارض پر ہسپتال کا بہترین عملہ ہو سکتا ہے لیکن اگر انہیں ادویات اور درد کش گولیوں اور اب ہسپتال کو بجلی کی فراہمی سے روک دیا جائے تو یہ کام ناممکن ہو جاتا ہے۔"

العربیہ کی تازہ خبریں Google News کے ذریعے حاصل کریں