محمود عباس اور ٹونی بلیئر
حماس غزہ پر حکومت ہرگز نہیں کرے گی : فلسطینی صدر
عباس کے نزدیک واحد قابلِ عمل حل یہ ہے کہ اسرائیل غزہ کی پٹی سے مکمل انخلا عمل میں لائے
فلسطینی صدر محمود عباس نے فوری طور پر جنگ بندی، تمام یرغمالیوں اور قیدیوں کی رہائی اور انسانی امداد کی بلا رکاوٹ فراہمی کو ضروری قرار دیا ہے۔
ان کا یہ موقف اتوار کے روز اردن کے دار الحکومت عمان میں اپنی قیام گاہ پر سابق برطانوی وزیراعظم اور بین الاقوامی چار فریقی کمیٹی کے سابق ایلچی ٹونی بلیئر سے ملاقات کے دوران سامنے آیا۔ عباس نے زور دیا کہ واحد قابلِ عمل حل یہ ہے کہ اسرائیل غزہ کی پٹی سے مکمل انخلا عمل میں لائے اور فلسطینی ریاست کو عرب اور بین الاقوامی مؤثر حمایت کے ساتھ وہاں مکمل طور پر اپنی ذمے داریاں سنبھالنے دی جائیں۔
صدر عباس نے اس بات پر بھی زور دیا کہ حماس جنگ کے خاتمے کے اگلے روز سے غزہ پر حکومت نہیں کرے گی ... اسے چاہیے کہ وہ اپنے ہتھیار فلسطینی اتھارٹی کے حوالے کرے اور سیاسی عمل میں شریک ہو، اور یہ شمولیت تنظیم آزادیِ فلسطین (پی ایل او) کے سیاسی منشور، اس کے بین الاقوامی ایجنڈے، بین الاقوامی قانونی جواز، ایک نظام، ایک قانون، اور ایک قانونی ہتھیار کے اصولوں کی پابندی کے تحت ہو۔
عباس نے اس بات پر بھی زور دیا کہ تمام یک طرفہ اقدامات بند کیے جائیں، بالخصوص بستیوں کی توسیع، الحاق کو مسترد کرنے، اور مقامات مقدسہ پر بار بار ہونے والے حملوں کو روکے جانے کی ضرورت ہے۔
انھوں نے اقوام متحدہ کی قراردادوں، عرب امن منصوبے، اور نیویارک میں بین الاقوامی امن کانفرنس کے ذریعے دو ریاستی حل کے نفاذ کے لیے ایک سنجیدہ سیاسی عمل کے آغاز کی اہمیت پر بھی روشنی ڈالی۔
ملاقات کے اختتام پر دونوں شخصیات نے اس بات پر اتفاق کیا کہ جنگ بندی، سلامتی، استحکام اور پورے خطے میں امن کے حصول کے لیے متعلقہ فریقوں کے ساتھ رابطہ اور ملاقاتوں کا سلسلہ جاری رکھا جائے گا۔
دوسری جانب، مشرق وسطیٰ کے لیے امریکی ایلچی اسٹیو وِٹکوف نے محصور غزہ کی پٹی میں جنگ بندی کے مذاکرات کے حوالے سے امید ظاہر کی ہے۔ اتوار کے روز انھوں نے صحافیوں کو بتایا کہ وہ آج نیو جرسی میں کلب ورلڈ کپ کے فائنل کے موقع پر اعلیٰ قطری حکام سے ملاقات کریں گے۔
یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا جب اسرائیلی وزیرِاعظم بنیامین نیتن یاہو نے اتوار کے روز اعلان کیا کہ حماس نے جنگ بندی اور قیدیوں کے تبادلے کی تجویز کو مسترد کر دیا ہے، حالانکہ اسرائیل نے وِٹکوف کی تجویز اور ثالثوں کی ترامیم کو قبول کر لیا تھا۔