غزہ کے بچوں کے بارے میں 'بی بی سی' کی حالیہ تیار کردہ دستاویزی رپورٹ میں ایک 13 سالہ بچہ کی کہانی بیان کی گئی ہے جو حماس کے ایک ذمہ دار کا بیٹا ہے۔
برطانوی نشریاتی ادارے نے اس کے بارے میں پیر کے روز کہا ہے رپورٹ میں معلومات کی صحت اور درستگی کے بارے میں موجود اداراتی رہنمائی کی خلاف ورزی ہوئی ہے۔ یہ بات نشریاتی ادارے کی طرف سے رپورٹ کے نشر نہ ہو سکنے کے بعد اٹھنے والے شور کے نتیجے میں مرتب کردہ ایک جائزے میں کہی گئی ہے۔
اس جائزے میں نشریاتی ادارے کی طرف سے ادارتی اصولوں کی خلاف ورزی کو پایا گیا ہے لیکن ساتھ ہی ساتھ جائزے میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ اس میں کسی تعصب کا دخل بالکل نہیں ہے اور نہ ہی ایسی شہادت ملی ہے جس سے رپورٹ کرنے والے کے مفادات وابستہ ہوں۔
دستاویزی رپورٹ 'غزہ کے جنگی زون میں زندگی کیسے بیت رہی ہے؟' 'بی بی سی' نے اس رپورٹ کو اپنے آن لائن پلیٹ فارم سے ماہ فروری میں ہٹا دیا تھا۔ تاہم 5 دن بعد اسے نشر کیا گیا اور ساتھ یہ کہا گیا کہ اس میں کافی سنگین غلطیاں تھیں۔
یہ دستاویزی رپورٹ ایک غیر جانبدار ادارے اور پروڈکشن ہاوس 'ہویو فلمز' نے مرتب کی ہے۔ اس دستاویزی فلم کے پس منظر میں بچہ کے والد کی گفتگو پیش کی گئی ہے۔
'بی بی سی' کی طرف سے کہا گیا ہے کہ اس میں پیش کر دہ معلومات نشر کرنے سے پہلے ادارے کے ساتھ شیئر نہیں کی گئی تھیں۔ اس لیے اس میں معلومات کی صحت متاثر ہوئی جس کو دیکھا نہ جا سکا۔
غزہ کی وزارت صحت کے پیش کردہ اعداد و شمار کے مطابق اب تک غزہ میں 58 ہزار سے زائد فلسطینی اسرائیلی فوج کے ہاتھوں قتل ہو چکے ہیں جن میں بڑی تعداد بچوں اور عورتوں کی ہے۔
برطانوی نشریاتی ادارے 'بی بی سی' کی غزہ کے بارے میں کوریج مسلسل تنقید کا نشانہ بنتی رہی ہے۔ اس سلسلے میں نشریاتی ادارے نے کئی انتظامی اقدامات بھی کیے۔ تاہم غزہ جنگ کے فریقین کو 'بی بی سی' کی کوریج سے شکایات رہیں۔
رپورٹ کے حوالے سے 'بی بی سی' کے ڈائریکٹر ادارتی شکایات پیٹر جانسٹان نے کہا ہے کہ دستاویزی رپورٹ میں یہ بتایا جانا چاہیے تھا کہ بچہ کا والد حماس کا عہدیدار ہے لیکن 'بی بی سی' کے سننے اور دیکھنے والوں کو یہ بات نہیں بتائی گئی۔
'بی بی سی' کے ڈائریکٹر جنرل ٹم ڈیوی کا کہنا ہے کہ اس رپورٹ میں معلومات کی عدم درستگی کے بارے میں نمایاں طور پر ایسی نشاندہی کی گئی ہے۔ ڈائریکٹر جنرل نے مزید کہا ہم دونوں سائیڈ سے اقدام کریں گے۔ جو یہ یقینی بنائیں گے کہ غلطی کے ازالے کے لیے متعلقہ لوگوں کا احتساب ہو اور ایسے اقدامات بھی کریں گے جس سے آئندہ اس طرح کی غلطی کو دہرانے کا موقع نہ ہو۔