Gonen Segev, a former Israeli cabinet minister indicted on suspicion of spying for Iran, is escorted by prison guards as he leaves the court in Jerusalem, July 5, 2018. (Reuters)

اسرائیل نے اپنے شہریوں کو ایران کے لیے جاسوسی کرنے سے روکنے کی مہم کا آغاز کر دیا

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

اسرائیل نے قومی سطح پر بدھ کے روز سے ایک ایسی ابلاغی مہم شروع کی ہے جس کا مقصد اپنے شہریوں کو ایران کے لیے جاسوسی کرنے سے روکنا اور بصورت دیگر اس کے مضمرات بھگتنے سے خبردار کرنا ہے۔

اس مہم کی ضرورت اسرائیل کو ایران کے خلاف اپنی 12 روزہ جنگ کے دنوں میں اس وقت شدت سے محسوس ہوئی جب اسرائیل کے اندر تک ایرانی بیلیسٹک میزائلوں کے حملے ممکن ہوتے رہے اور اسرائیلی تنصیبات بھی ان بیلیسٹک میزائلوں اور ڈرون حملوں سے نشانہ بنتی رہیں۔ جس سے اسرائیلی حکومت اور فوج کو یہ احساس ہوا کہ اسرائیلی شہریوں میں بہت سے ایسے بھی ہیں جو ایران کو اسرائیل کے اندر سے معلومات دے رہے ہیں۔

ایسے شہریوں کو اس اسرائیل دشمن پر مبنی اور ایران کے لیے جاسوسی کرنے سے روکنے کے لیے اس مہم کا آغاز کیا گیا ہے۔

اسرائیلی اندرونی سلامتی کے حساس ادارے اور نیشنل پبلک ڈپلومیسی ڈائریکٹوریٹ نے اس مشترکہ مہم کا نام 'آسان رقم بھاری قیمت' رکھا ہے اور یہ مہم ریڈیو کے علاوہ انٹرنیٹ کی مختلف ویب سائٹس اور سوشل میڈیا پلیٹ فارمز پر چلائی جا رہی ہے۔

اس سلسلے میں اسرائیلی حکومت نے مختلف ویڈیوز تیار کی ہیں جن میں سے ایک 20 سیکنڈز پر مبنی ویڈیو میں ایک والد کو اپنے خاندان کے افراد کے ساتھ کھانا کھاتے ہوئے دکھایا گیا ہے۔ جبکہ دوسری ویڈیو میں دکھایا گیا ہے کہ ایک اسرائیلی اپنے دوستوں کے ساتھ شراب پی رہا ہے اور اس کے ساتھ کیپشن پر لکھا ہے کہ آپ کی اور آپ کے خاندان کی قیمت پانچ ہزار شیکل ہے۔

پانچ ہزار شیکل جو کہ 1490 امریکی ڈالر کے برابر ہے۔ اس سے بظاہر یہ لگتا ہے کہ اتنی تھوڑی رقم پر اسرائیلی شہری ایران کے لیے جاسوسی کرنے پر راضی ہو جاتے ہیں اور اس کے ساتھ تعاون کرتے ہیں۔

مہم میں یہ بھی خبردار کیا گیا ہے کہ جو لوگ ایرانی کیش استعمال کر رہے تھے وہ اب سلاخوں کے پیچھے ہیں اور ایران کی مدد کرنے والے ہر شخص کو 15 سال قید بھگتنا پڑے گی۔ آسان رقم کی یہ بھاری قیمت ہے اس لیے ایران جیسے دشمن کی مدد نہ کریں۔

خیال رہے شین بیٹ اور پبلک ڈپلومیسی ڈائریکٹوریٹ نے اب تک 25 ایسے کیسز پکڑے ہیں جن میں ایران کے لیے جاسوسی کرنے والوں کی نشاندہی کی گئی ہے۔

کہا گیا ہے کہ ایران نے پچھلے سال ان کی خدمات حاصل کی تھیں اور 35 لوگوں کے خلاف اسی جرم میں فرد جرمںعائد کر دی گئی۔

بعض مبصرین کا خیال ہے کہ نیتن یاہو حکومت کو اس وقت عوامی و سیاسی سطح پر جس مخالفت کا سامنا ہے اس مہم سے خدشہ پیدا ہو سکتا ہے کہ وہ اپنے مخالفین کو ایرانی جاسوسوں کے طور پر دیکھنا شروع کر دیں۔

تاہم حالیہ جنگ کے دوران ہونے والے اسرائیلی نقصان کے حوالے سے دیکھا جائے تو اس جاسوسی مخالف مہم کی غیر معمولی طور پر اہمیت ہے۔ تاکہ آئندہ ایران اسرائیل جنگ کے دوران ایران کی فوج کو اسرائیل کے اندر تنصیبات کی نشاندہی کرنے والے، نقشے دینے والے اور معلومات فراہم کرنے والے نہ ہونے کے برابر ہوں۔

ایران میں بھی اسرائیلی جاسوسوں کے خلاف پچھلے ماہ سے ہی گرفتاریاں شرو ع ہو چکی ہیں جبکہ بعض کو پھانسیاں بھی دی جا چکی ہیں کہ وہ اسرائیل کے لیے جاسوسی کر رہے تھے۔

العربیہ کی تازہ خبریں Google News کے ذریعے حاصل کریں