21 جولائی 2025 کو شامی عرب خبر رساں ایجنسی (سانا) کی جاری کردہ ہینڈ آؤٹ تصویر میں ایک گاڑی اور شامی ہلالِ احمر کی ایمبولینس کی قیادت میں بسوں کا ایک قافلہ جنوبی شام کے السویدا میں بے دخل کیے گئے بدو خاندانوں کو لے کر جا رہا ہے۔ (اے ایف پی)
جھڑپیں ختم کرنے کے لیے شامی حکومت کا السویدا سے بدو خاندانوں کا انخلاء شروع
شامی حکومت نے پیر کو سویدا شہر کے اندر پھنسے بدو خاندانوں کو نکالنا شروع کر دیا جہاں دروز اور بدو جنگجو ایک ہفتے سے زیادہ عرصے سے جھڑپیں کر رہے ہیں۔
دروز مذہبی اقلیت اور سنی مسلم قبائل کی ملیشیاؤں کے درمیان جھڑپوں میں سینکڑوں افراد ہلاک ہوئے اور شام کے پہلے سے ہی نازک حالات کے مزید خراب ہونے کا خطرہ پیدا ہو گیا تھا۔
جھڑپوں کے نتیجے میں دروز کمیونٹی کے خلاف ہدفی فرقہ وارانہ حملوں کا سلسلہ بھی شروع ہو گیا جس کے بعد بدویوں کے خلاف انتقامی حملے ہوئے۔ یو این انٹرنیشنل آرگنائزیشن فار مائیگریشن نے کہا کہ ایک ہفتہ قبل اغوا اور حملوں کے ایک سلسلے سے شروع ہونے والی دشمنی میں تقریباً 128,571 افراد بے گھر ہوئے تھے۔
اسرائیل نے دروز کی اکثریت والے صوبہ سویدا میں بھی درجنوں فضائی حملے کیے جن میں سرکاری افواج کو نشانہ بنایا گیا جنہوں نے بدویوں کا مؤثر طور پر ساتھ دیا تھا۔
امریکی ایلچی ٹام براک نے پیر کو کہا کہ شامی حکومت سے جواب طلبی کی ضرورت ہے۔ انہوں نے بیروت کے دورے کے دوران بات کرتے ہوئے کہا، "انہیں وہ ذمہ داری بھی سونپی جائے جو ادا کرنے کے لیے وہ وہاں موجود ہیں۔"
شام کے سرکاری میڈیا نے پیر کو کہا کہ حکومت نے سویدا میں بعض عہدیداروں سے رابطہ کیا ہے تاکہ شہر میں تقریباً 1500 بدوؤں کو نکالنے کے لیے بسیں لائی جائیں۔
شام کے وزیرِ داخلہ احمد الدالاتی نے سانا کو بتایا، اس اقدام سے سویدا سے بے گھر ہونے والے شہریوں کو بھی واپس آنے کا موقع ملے گا کیونکہ لڑائی بہت حد تک رک چکی ہے اور مکمل جنگ بندی کے لیے کوششیں جاری ہیں۔
الدالاتی نے شام کی سرکاری خبر رساں ایجنسی کو بتایا، "ہم نے سویدا کو محفوظ رکھنے اور وہاں لڑائی روکنے کے لیے اس کے ارد گرد حفاظتی حصار لگا دیا ہے۔ اس سے وہ راستہ محفوظ ہو گا جو صوبے میں مفاہمت اور استحکام کی طرف لے جائے۔"
بدو خاندانوں سے بھری بسوں کے ساتھ شامی عرب ہلالِ احمر کی گاڑیاں اور ایمبولینسیں تھیں۔ کچھ خاندان اپنا سامان لے کر ٹرکوں پر چلے گئے۔
بدو جنگجو اتوار کو سویدا شہر سے واپس چلے گئے اور ملک کے دیگر حصوں سے آنے والے دیگر قبائلیوں کے ساتھ مضافات میں موجود تھے جب سکیورٹی فورسز نے علاقے کو گھیرے میں لے لیا تھا۔ ہلالِ احمر کی تقریباً 32 گاڑیوں کا ایک امدادی قافلہ شہر میں داخل ہوا حالانکہ ایک اور امدادی قافلے کے ساتھ ایک سرکاری وفد کو داخلے کی اجازت نہ ملی۔
سویدا میں سیریئن آبزرویٹری فار ہیومن رائٹس اور کارکن گروپوں نے اطلاع دی کہ ان کے مطابق ان دیہات پر اسرائیلی فضائی حملے ہوئے جہاں بدویوں اور ڈروز ملیشیا کے درمیان جھڑپیں ہوئیں۔
اسرائیلی فوج نے شام میں راتوں رات ہونے والے کسی بھی حملے سے "لاعلمی" کا اظہار کیا۔