استنبول میں ایرانی قونصل خانہ، جہاں جمعہ کو ایران اور یورپی ممالک کے درمیان مذاکرات ہوئے (رائٹرز)
یورپی طاقتوں کے ساتھ بات چیت ٹھوس نتائج کے بغیر ختم ہوگئی: ایران
یورپی ٹرائیکا نے پیش رفت نہ ہونے پر ٹرگر میکانزم شروع کرنے کی دھمکی دے رکھی ہے
ایرانی ذرائع نے جمعہ کو بتایا ہے کہ تہران اور یورپی ٹرائیکا جس میں برطانیہ، فرانس اور جرمنی شامل ہیں کے درمیان استنبول میں ایرانی قونصلیٹ کی عمارت میں جوہری مذاکرات ٹھوس نتائج کے بغیر ختم ہوگئے ہیں۔
خبر رساں ایجنسی ایسوسی ایٹڈ پریس نے ایرانی مذاکرات کار اور نائب وزیر خارجہ کاظم غریب آبادی کے حوالے سے بتایا کہ سنجیدہ، واضح اور تفصیلی ملاقات جوہری مسئلے اور پابندیوں کی صورتحال پر مرکوز تھی۔ اس ملاقات میں مزید بات چیت جاری رکھنے پر اتفاق کیا گیا۔
ایرانی اور یورپی سفارت کاروں نے جمعہ کو استنبول میں ملاقات کی ہے تاکہ تہران کے جوہری پروگرام پر تعطل کو توڑنے کی نئی کوششیں شروع کی جا سکیں۔ تینوں ملکوں کے نمائندوں نے جون میں ایران اور اسرائیل کے درمیان 12 روزہ جنگ کے بعد پہلی بار ملاقات کی۔ اس جنگ میں امریکی بمبار طیاروں نے جوہری ہتھیاروں سے متعلق ایرانی تنصیبات کو نشانہ بنایا تھا۔
Your browser doesn’t support HTML5 video
یہ اسرائیل اور ایران کے درمیان حالیہ جنگ کے بعد پہلی بات چیت ہے۔ یورپی سفارت کاروں کا مقصد تہران پر دباؤ بڑھانا ہے تاکہ وہ سنجیدہ جوہری مذاکرات میں دوبارہ شامل ہو۔ ایرانی خبر رساں ایجنسی ’’ ارنا ‘‘ نے ایرانی وزارت خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی کے حوالے سے بتایا کہ بین الاقوامی جوہری توانائی ایجنسی کے ڈپٹی ڈائریکٹر جنرل کا تہران کا دورہ "آنے والے ہفتوں" میں دونوں فریقوں کے درمیان تعاون کے فریم ورک پر بات چیت کے لیے طے شدہ ہے۔ اس دورے میں جنگ کے دوران تباہ ہونے والی جوہری تنصیبات کا معائنہ شامل نہیں ہے۔
ایک سفارت کار نے ایسوسی ایٹڈ پریس کو بتایا کہ وقت کم ہو رہا ہے۔ سفارت کار نے خبردار کیا کہ پیشرفت کے بغیر تینوں ممالک ایران پر اقوام متحدہ کی پابندیاں دوبارہ نافذ کرنے کے لیے "ٹرگر میکانزم" شروع کر سکتے ہیں۔ اگرچہ 2015 کا ویانا معاہدہ بڑی حد تک ناکارہ ہو چکا ہے لیکن یہ باضابطہ طور پر اگلے اکتوبر کے وسط میں ختم ہو رہا ہے۔
یورپی ملکوں کے اہم مطالبات میں ایرانی جوہری مقامات تک اقوام متحدہ کے جوہری انسپکٹرز کی رسائی کی تجدید اور 400 کلوگرام انتہائی افزودہ یورینیم کی قسمت کی وضاحت کرنا شامل ہے۔ اس یورینیم کا امریکی حملے کے بعد سے کوئی پتہ نہیں چل سکا ہے۔ ایران نے حال ہی میں دو ماہ تک امریکہ کے ساتھ بالواسطہ بات چیت کی اور اس پر اصرار کیا کہ اس کا جوہری پروگرام پرامن مقاصد کے لیے ہے۔ تہران بین الاقوامی پابندیوں میں نرمی چاہتا ہے۔ پابندیوں نے اس کی معیشت کو مفلوج کر دیا ہے۔ امریکی اور ایرانی بات چیت گزشتہ ماہ واشنگٹن کی جانب سے تین ایرانی جوہری مقامات پر حملوں کے بعد تعطل کا شکار ہو گئی۔ امریکہ ایران سے یورینیم کی مکمل افزودگی کو روکنے کا مطالبہ کر رہا ہے لیکن تہران اس سے انکار کر رہا ہے۔