عباس عراقجي في مؤتمر صحفي في موسكو - 18 أبريل 2025 رويترز
جب تک واشنگٹن ایران کو افزودگی سے روکنے پر مُصر ہے، کوئی معاہدہ ممکن نہیں: عراقچی
امریکا کی جانب سے ایران پر نئی پابندیاں عائد کی گئی ہیں۔ ان کا ہدف 50 سے زائد افراد اور ادارے ہیں، علاوہ ازیں 50 سے زیادہ بحری جہاز بھی شامل ہیں جن کے بارے میں شبہ ہے کہ وہ تہران میں ایک اعلیٰ عہدے دار کے بیٹے کے زیرِ ملکیت تجارتی بیڑے سے وابستہ ہیں
ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی کا کہنا ہے کہ ایران یورینیم کی افزودگی پر قائم رہے گا اور اس کی مکمل صلاحیت رکھتا ہے۔
برطانوی اخبار "فائنانشل ٹائمز" سے گفتگو کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ امریکا کو جوہری مذاکرات کی بحالی سے قبل، حالیہ جنگ کے دوران ایران کو ہونے والے نقصانات کا ازالہ کرنا ہو گا۔
عراقچی نے کہا کہ انہوں نے مشرق وسطیٰ کے لیے امریکی ایلچی اسٹیو وِٹکوف کے ساتھ جنگ کے دوران اور بعد میں پیغامات کا تبادلہ کیا اور مذاکرات کی بحالی کی پیشکش کے جواب میں اعتماد سازی کے لیے عملی اقدامات کا مطالبہ کیا ... ان اقدامات میں مالی معاوضہ اور مذاکرات کے دوران حملے نہ کیے جانے سے متعلق ضمانت شامل ہے۔
نئی امریکی پابندیاں
امریکا نے بدھ کے روز ایران پر نئی پابندیاں عائد کیں جو 115 افراد، اداروں اور بحری جہازوں کو متاثر کرتی ہیں۔ ان میں وہ بحری بیڑا بھی شامل ہے جو ایرانی مرشد علی خامنہ ای کے مشیر علی شمخانی کے بیٹے محمد حسین شمخانی سے منسوب ہے۔
Your browser doesn’t support HTML5 video
امریکی محکمہ خزانہ نے ان پابندیوں کو 2018 کے بعد سے سب سے بڑی پابندیاں قرار دیا۔ یورپی یونین پہلے ہی محمد حسین پر روسی تیل کی تجارت میں کردار کی بنیاد پر پابندیاں لگا چکی ہے۔
واشنگٹن اور تہران کے بیچ سفارت کاری دوبارہ شروع ہونے کے امکانات کمزور
ایران کے جوہری مراکز پر امریکی حملوں کے بعد مذاکرات کی بحالی کے امکانات کم ہو گئے ہیں۔
Your browser doesn’t support HTML5 video
صدر ٹرمپ نے خبردار کیا ہے کہ اگر ایران نے دوبارہ سرگرمیاں شروع کیں تو فوری حملہ کیا جائے گا۔ وہ کہہ چکے ہیں کہ جون میں کیے گئے حملوں نے ایران کے جوہری پروگرام کو ختم کر دیا ہے، جبکہ ایران اسلحہ بنانے کی کوششوں کی تردید کرتا ہے۔