شامی وزارت خارجہ کے مطابق روس میں متعین عرب ممالک کے سفیروں اور شامی وزیر خارجہ اسعد الشیبانی کے درمیان ایک عشائیے پر ملاقات ہوئی (شامی دفتر خارجہ)
ماضی کو دفن کر دینے کے خواہش مند ہیں: الشیبانی ۔ پوتین کے ساتھ ملاقات "تاریخی" قرار
شامی وزیر خارجہ نے کہا کہ "ہم اپنے ملک کو بین الاقوامی تنازعات کے تصفیے کی جگہ ہر گز نہیں بننے دیں گے"۔
شامی وزیر خارجہ اسعد الشیبانی نے واضح کیا ہے کہ دمشق ہر گز اس بات کی اجازت نہیں دے گا کہ شام کو بین الاقوامی تنازعات نمٹانے کے لیے استعمال کیا جائے۔ ان کا کہنا تھا کہ شام اور روس دونوں ماضی کو پیچھے چھوڑ کر نئے تعلقات استوار کرنے کے خواہاں ہیں۔
روسی دار الحکومت ماسکو میں عرب سفیروں سے گفتگو کرتے ہوئے الشیبانی نے کہا "ہم شام کو بین الاقوامی تنازعات کے تصفیے کی جگہ یا خطے کے لیے بحرانوں کا منبع نہیں بننے دیں گے۔"
انھوں نے مزید کہا کہ نیا شام تمام بین الاقوامی، مقامی اور علاقائی شراکت داروں کے ساتھ تعلقات قائم کرنا چاہتا ہے۔ ان کے مطابق شام اور روس ماضی کو دفن کر کے نئے تعلقات کی بنیاد رکھنے کی خواہش رکھتے ہیں۔
شامی سرکاری خبر رساں ایجنسی "سانا" نے جمعرات کو اطلاع دی کہ روسی صدر ولادی میر پوتین نے ماسکو کے کریملن ہاؤس میں شامی وزیر خارجہ اسعد الشیبانی اور ان کے وفد کا استقبال کیا۔
اس موقع پر الشیبانی نے روسی وزیر خارجہ سرگئی لاؤروف سے بھی ملاقات کی۔
تاریخی ملاقات
روسی وزارت دفاع کے مطابق وزیر دفاع آندرے بیلاوسوف اور ان کے شامی ہم منصب مرہف ابو قصرہ نے بدھ کے روز ماسکو میں ملاقات کی۔ ملاقات میں دو طرفہ عسکری اور سکیورٹی تعاون بڑھانے کے ساتھ ساتھ مشرق وسطیٰ کی صورت حال پر تبادلہ خیال کیا گیا۔
Your browser doesn’t support HTML5 video
شامی وزارت خارجہ نے صدر ولادی میر پوتین اور وزیر الشیبانی کے درمیان ملاقات کو "تاریخی" قرار دیتے ہوئے کہا کہ یہ ملاقات ماسکو اور دمشق کے درمیان سیاسی و عسکری ہم آہنگی کے ایک نئے مرحلے کے آغاز کی علامت ہے۔