ایران میں شدید گرم موسم میں ایک شاہراہ کا منظر۔ (فائل فوٹو)

گرمی کی لہر سے بجلی کی فراہمی متأثر، ایران نے دفتر بند کرنے کا حکم دے دیا

ملک شدید خشک سالی کی زد میں ہے

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

سرکاری میڈیا کی خبر کے مطابق ایرانی حکام نے بجلی کا استعمال کم کرنے کے لیے بدھ کے روز کئی سرکاری دفاتر بند کرنے کا حکم دیا ہے کیونکہ گرمی کی لہر کی وجہ سے بجلی پیدا کرنے کی صلاحیت متأثر ہو رہی ہے۔

سرکاری نیوز ایجنسی اِرنا نے بتایا کہ ایران کے 31 میں سے کم از کم 15 صوبوں میں عوامی دفاتر یا تو بند یا ان کے اوقات کم کر دیئے جائیں گے۔

دارالحکومت تہران کے علاوہ متأثرہ صوبوں میں شمال مغرب میں مغربی آذربائیجان اور اردبیل، جنوب میں ہرمزگان اور شمال میں البرز شامل ہیں۔

سرکاری ٹیلی ویژن نے بتایا کہ تہران کے گورنر محمد صادق موتمیدیان نے کہا کہ یہ بندشیں وزارتِ توانائی کی درخواست پر کی گئی ہیں اور ان کا مقصد "پانی اور بجلی کے شعبوں میں توانائی کے استعمال کو منظم کرنا" ہے۔

ٹی وی چینل نے مزید کہا کہ ایمرجنسی اور صفِ اول کی خدمات کھلی رہیں گی۔

جولائی کے وسط میں شروع ہونے والے بلند درجہ حرارت نے ایران میں بجلی پیدا کرنے والے نظام کو متأثر کیا ہے اور جنوب میں درجہ حرارت 50 ڈگری سینٹی گریڈ تک پہنچ جانے کی وجہ سے پورے ملک میں بجلی کی بندش کا مسئلہ درپیش ہے۔

تہران میں حکام نے آبی ذخائر کی گرتی ہوئی سطح کو سنبھالنے کے لیے پانی کا دباؤ بھی کم کر دیا ہے کیونکہ ایرانی میڈیا کے مطابق ملک ایک صدی کی بدترین خشک سالی برداشت کر رہا ہے۔

العربیہ کی تازہ خبریں Google News کے ذریعے حاصل کریں