مغربی کنارا
اسرائیل کے وزیر خزانہ سموٹریچ کی جانب سے "ای 1" علاقے میں نئی بستیوں کی تعمیر کے اعلان پر بین الاقوامی اور اقوام متحدہ کی مذمتیں جاری ہیں۔ اقوام متحدہ کے انسانی حقوق دفتر نے اس فیصلے کو غیر قانونی قرار دیتے ہوئے کہا کہ اس منصوبے سے فلسطینیوں کو زبردستی بے دخل کرنے کا خطرہ ہے اور یہ ایک جنگی جرم ہے۔
Your browser doesn’t support HTML5 video
’’ ای ون ‘‘ علاقہ کیا ہے؟
یہ علاقہ مشرقی القدس میں واقع ہے اور دو دہائیوں سے اس پر تعمیرات کی بات ہو رہی ہے۔ یہ خاص طور پر اس لیے متنازع ہے کیونکہ یہ مغربی کنارے کے دو اہم شہروں رام اللہ اور بیت لحم کے درمیان آخری جغرافیائی رابطہ ہے۔ یہ دونوں شہر ایک دوسرے سے 22 کلومیٹر کے فاصلے پر ہیں۔ لیکن ’’ ای ون ‘‘ بستی کا منصوبہ مکمل ہونے پر ان کے درمیان براہ راست راستہ ختم ہو جائے گا۔ اس کے بعد ان شہروں کے درمیان سفر کرنے والے فلسطینیوں کو کئی کلومیٹر کا اضافی فاصلہ طے کرنا پڑے گا جس میں کئی چیک پوائنٹس بھی آئیں گے اور اس سے سفر میں کئی گھنٹے کا اضافہ ہو جائے گا۔
توقع کی جارہی ہے کہ اس منصوبے کو 20 اگست کو حتمی منظوری مل جائے گی جو 20 سال کے طویل بیوروکریٹک عمل کا اختتام ہوگا۔ تنظیم "پیس ناؤ" مغربی کنارے میں بستیوں کی توسیع پر نظر رکھتی ہے۔ اس تنظیم کے مطابق منصوبہ بندی کمیٹی نے 6 اگست کو انسانی حقوق کی تنظیموں اور کارکنوں کی جانب سے تعمیرات روکنے کی تمام درخواستیں مسترد کر دی ہیں۔
سال میں تعمیر شروع ہونے کی توقع
اگرچہ ابھی کچھ بیوروکریٹک مراحل باقی ہیں لیکن بنیادی ڈھانچے کا کام آئندہ چند مہینوں میں شروع ہو سکتا ہے اور گھروں کی تعمیر تقریباً ایک سال میں شروع ہو سکتی ہے۔ فلسطینی وزیر خارجہ کے سیاسی مشیر احمد الدیک نے ایسوسی ایٹڈ پریس (اے پی) کو بتایا ہے کہ یہ منظوری ایک نوآبادیاتی، توسیعی اور نسل پرستانہ قدم ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ یہ اسرائیلی حکومت کے انتہا پسندانہ منصوبوں کا حصہ ہے تاکہ فلسطینی ریاست کے قیام کی کسی بھی ممکنہ کوشش کو ناکام بنایا جا سکے اور مغربی کنارے کو ٹکڑوں میں تقسیم کیا جا سکے۔ اس بستی سے مغربی کنارے کے جنوبی حصے کو وسطی اور شمالی حصوں سے الگ کیا جا سکے گا۔
Your browser doesn’t support HTML5 video
انسانی حقوق کی تنظیموں نے بھی فوری طور پر اس منصوبے کی مذمت کی ہے۔ "پیس ناؤ" نے اسے اسرائیل کے مستقبل اور دو ریاستی حل کے امکانات کے لیے مہلک قرار دیا اور کہا ہے کہ یہ منصوبہ خونریزی کے مزید سالوں کی ضمانت دے رہا ہے۔ یہ فیصلہ اس وقت سامنے آیا ہے جب رواں سال مغربی کنارے میں فلسطینیوں پر اسرائیلی آباد کاروں کے حملوں کی ریکارڈ تعداد دیکھی گئی ہے۔ اقوام متحدہ اور اسرائیلی سرکاری ایجنسیوں کے اعداد و شمار کے مطابق یہ علاقہ جزوی طور پر فلسطینی اتھارٹی کے زیر کنٹرول ہے۔
اقوام متحدہ کے دفتر برائے انسانی امور (OCHA) کے مطابق 2025 کے پہلے نصف میں اسرائیلی انتہا پسندوں نے فلسطینیوں اور ان کی املاک پر تقریباً 750 حملے کیے ہیں۔ یہ 2006 کے بعد سے ایسے حملوں کی سب سے زیادہ تعداد ہے۔ 2006 میں اقوام متحدہ نے یہ اعداد و شمار جمع کرنا شروع کیے تھے۔ اس سال کے آغاز سے اب تک 440 حملے ریکارڈ کیے گئے ہیں۔ واضح رہے اسرائیلی آباد کاروں کے حملوں کی تعداد میں 7 اکتوبر 2023 کے بعد سے نمایاں اضافہ ہوا ہے۔