14 اگست (اے ایف پی) جنوبی غزہ کے علاقے المواصی میں بے گھر فلسطینیوں کو پناہ دینے والے خیمے
غزہ کے رہائشیوں کو پٹی کے جنوب میں منتقل کرنے کی تیاری ہے: اسرائیل
تل ابیب میں غزہ کی جنگ کو وسعت نہ دینے اور معاہدہ کرنے کے مطالبات کے لیے احتجاجی مظاہرے
اسرائیلی فوج کے ترجمان ادرائی نے ہفتے کے روز اعلان کیا ہے کہ فوج آج اتوار سے غزہ پٹی کے رہائشیوں کو خیمے اور پناہ گاہ کا سامان فراہم کرنا شروع کر دے گی تاکہ انہیں لڑائی والے علاقوں سے پٹی کے جنوب میں اپنے تئیں "محفوظ" قرار دیے گئے علاقوں میں منتقل کرنے کی تیاری کی جا سکے۔
ادرائی نے "ایکس" پر ایک پوسٹ میں مزید کہا کہ یہ سامان کرم ابو سالم کراسنگ کے ذریعے اقوام متحدہ اور بین الاقوامی امدادی تنظیموں کے ذریعے منتقل کیا جائے گا۔ وزارت دفاع کے زمینی کراسنگ اتھارٹی کے اہلکاروں کی جانب سے سخت معائنے کے بعد سامان کو آگے جانے کی اجازت دی جائے گی۔ دوسری جانب ’’ العربیہ ‘‘ کے نامہ نگار نے اطلاع دی ہے کہ تل ابیب میں احتجاجی مظاہرے ہو رہے ہیں۔ مظاہرین غزہ کی جنگ کو وسعت نہ دینے اور ایک معاہدہ کرنے کا مطالبہ کر رہے ہیں۔
پٹی کے متفرق علاقوں پر بمباری
یہ سب اس وقت ہو رہا ہے جب اسرائیلی فوج نے ہفتے کے روز بھی غزہ کے مختلف علاقوں میں سلسلہ وار فضائی حملے کیے اور مختلف اہداف کو نشانہ بنایا۔ اسرائیلی بمباری میں متعدد فلسطینی شہید اور زخمی ہوگئے۔ النصیرات کیمپ میں واقع العودہ ہسپتال نے اعلان کیا کہ اسے 9 مرنے والوں کی لاشیں موصول ہوئی ہیں۔ ان مرنے والوں میں 6 بچے شامل ہیں جو وادی غزہ کے جنوب اور پٹی کے وسط میں امدادی سامان کی تقسیم کی جگہ پر اسرائیلی فوج کی بمباری کی وجہ سے شہید ہوگئے۔ اسرائیلی توپ خانے نے غزہ سٹی کے صابرہ محلے اور پٹی کے وسط میں واقع البرج اور النصیرات کیمپوں پر بمباری تیز کر دی ہے۔ غزہ سٹی کے مشرق میں رہائشی عمارتوں کو مسلسل منہدم کیا جا رہا ہے۔
14 اگست (اے ایف پی) غزہ شہر کے التفاح محلے سے
واضح رہے اسرائیلی حکومت نے گزشتہ ہفتے جنگ کو وسعت دینے اور پورے غزہ سٹی پر قبضہ کرنے کے منصوبے کی منظوری دی تھی۔ اس سے قبل ہی اسرائیلی افواج نے پٹی کے تقریباً 75 فیصد حصے پر قبضہ کر رکھا ہے۔ اسی دوران تباہ شدہ غزہ کی پٹی میں محصور فلسطینی شہریوں کے لیے جنگ کو وسعت دینے کے خطرے کے بارے میں بین الاقوامی اور اقوام متحدہ کی مذمتیں اور انتباہات بڑھ گئے ہیں۔ دوسری طرف ثالثوں کی جانب سے غزہ میں انسانی بنیادوں پر جنگ بندی اور اسرائیل اور حماس کے درمیان قیدیوں کے تبادلے کے لیے کوششیں جاری ہیں لیکن اب تک کوئی خاطر خواہ نتائج برآمد نہیں ہوئے ہیں۔