نیتن یاہو کی کابینہ
’غزہ میں جزوی معاہدہ منظور نہیں‘ نیتن یاھو حکومت میں اختلافات شدت اختیار کر گئے
فلسطینی مزاحمتی تحریک حماس نے پیر کی شب قاہرہ میں مصری اور قطری ثالثوں کو آگاہ کیا کہ اس نے غزہ میں 60 روزہ جنگ بندی اور اسرائیلی قیدیوں کی دو مرحلوں میں رہائی سے متعلق نئے تجویز کردہ معاہدے پر رضامندی ظاہر کر دی ہے۔ اس پیشکش پر اسرائیل نے کہا ہے کہ وہ جلد جواب دے گا۔
اسرائیلی ذرائع کے مطابق وزیر اعظم بنجمن نیتن یاھو اپنے حکومتی اتحادیوں کے دباؤ کے باعث کسی بھی جزوی معاہدے کی مخالفت کر رہے ہیں، تاہم یہ امکان ہے کہ اگر امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے زور دیا تو وہ اسے قبول بھی کر سکتے ہیں۔
Your browser doesn’t support HTML5 video
دوسری جانب نیتن یاھو کو اپنی حکومت میں دائیں بازو کے سخت گیر وزراء کی شدید مزاحمت کا سامنا ہے۔ ان میں وزیر خزانہ بزلئیل سموٹریچ اور وزیر قومی سلامتی ایتمار بن گویر شامل ہیں، جو کسی بھی جزوی سمجھوتے کو "قیادت کی کمزوری" قرار دیتے ہیں۔
وزیر اعظم بنجمن نیتن یاھو
سموٹریچ نے دوٹوک الفاظ میں کہا ہے کہ "آدھے راستے میں رکنے کا کوئی امکان نہیں"۔ بن گویر نے بھی عارضی یا جزوی حل کو مسترد کرتے ہوئے اسی مؤقف کو دہرایا۔
وزیر برائے آبادکاری اوریٹ سٹروک نے ایکس پر لکھا کہ "جزوی معاہدوں کے دن گزر گئے ہیں۔ ایسے معاہدے بڑے نقصانات کے سوا کچھ نہیں لاتے۔" اسی طرح وزیر برائے امور نقب و جلیل یتسحاق فاسرلاوف بھی صرف مکمل معاہدے کے حامی ہیں۔
نیتن یاہو اور سموٹریچ
البتہ حکومت میں اختلافات نمایاں ہیں۔ وزیر خارجہ جدعون ساعر اور حزب "چاس" کے سربراہ اریئل درعی نے جزوی معاہدے پر بات چیت میں لچک دکھائی ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ اس سے کم از کم آدھے اسرائیلی قیدی رہا ہو سکتے ہیں۔
اس دوران تل ابیب میں قیدیوں کے اہل خانہ کے مظاہرے جاری ہیں۔ مظاہرین حکومت پر دباؤ ڈال رہے ہیں کہ وہ فوری طور پر جنگ بندی اور قیدیوں کی واپسی کے لیے معاہدہ کرے۔
Your browser doesn’t support HTML5 video
ذرائع کے مطابق حماس نے ثالثوں کو بتایا ہے کہ وہ ابتدائی طور پر 20 روزہ جنگ بندی اور آدھے اسرائیلی قیدیوں کی رہائی پر آمادہ ہے، جبکہ باقی قیدی دوسری مرحلے میں رہا کیے جائیں گے۔ ایک فلسطینی ذریعے نے فرانسیسی خبر رساں ایجنسی کو بتایا کہ ثالثوں نے حماس اور دیگر فلسطینی گروپوں کو "عمل درآمد کی ضمانت" بھی دی ہے ساتھ ہی یہ یقین دہانی کرائی ہے کہ بعد ازاں مستقل حل پر بات چیت بھی کی جائے گی۔
یاد رہے کہ اس وقت غزہ میں تقریباً 20 اسرائیلی قیدی زندہ حالت میں موجود ہیں، جبکہ 30 کے قریب ہلاک ہو چکے ہیں۔ دوسری طرف اسرائیلی جیلوں میں ہزاروں فلسطینی برسوں سے قید ہیں۔