نجران اپنی متعدد اقسام کی کھجوروں کے لیے مشہور ہے
"البياض اور المواكيل"… نجران کی کھجوروں کی دو قیمتی ترین نایاب علامتیں
نجران میں کھجور کے 5 لاکھ سے زیادہ درخت موجود ہیں
سعودی عرب کا صوبہ نجران کھجوروں کی پیداوار کے لحاظ سے منفرد حیثیت رکھتا ہے۔ یہاں 30 سے زائد اقسام اگائی جاتی ہیں، مگر "بياض" اور "مواكيل" شہرت، معیار اور قیمت کے اعتبار سے سرفہرست ہیں۔
بياض کھجور اپنے ہلکے رنگ، باریک چھلکے اور کم شوگر کے ساتھ فائبر اور معدنیات سے بھرپور ہونے کے باعث صحت مند انتخاب سمجھی جاتی ہے۔ یہ کئی ماہ تک تازہ ذائقے کے ساتھ محفوظ رہتی ہے اور خلیجی و بین الاقوامی منڈیوں میں بڑی مانگ رکھتی ہے۔ دوسری جانب مواكيل کھجور اپنے گہرے رنگ، معتدل مٹھاس اور مضبوط ساخت کی بدولت تازہ کھانے اور کھجور سے بننے والی مصنوعات جیسے "دبس" اور مٹھائیوں کے لیے موزوں ہے۔ اس کو لمبے عرصے تک ذخیرہ کیا جا سکتا ہے
قیمتوں کے اعتبار سے بیاض کا تھیلا 500 سے 3500 ریال تک پہنچتا ہے جبکہ نایاب اقسام 20 ہزار ریال تک فروخت ہوتی ہیں۔ مواكيل کی قیمت 200 سے 1000 ریال تک ہے، تاہم بعض اوقات یہ 8000 ریال تک جا پہنچتی ہے۔
مقامی کاشت کار صالح بلعيد کے مطابق یہ دونوں اقسام "زرعی دولت" ہیں اور ان کی سالانہ پیداوار 50 ٹن سے زائد ہے۔ اسی طرح علی مہدی ان کی کامیابی کو زرخیز زمین اور موزوں موسم سے جوڑتے ہیں۔ تاجر محمد آل منصور بتاتے ہیں کہ ان کھجوروں کی طلب سب سے زیادہ ہے، بالخصوص ذخیرہ کرنے میں آسانی کے سبب۔
کھجور کا درخت نجران اور اس کے ضلعوں میں سب سے قدیم درختوں میں شمار ہوتا ہے.
نجران میں صرف کھجور کی کاشت تک محدود نہیں رہا گیا بلکہ اس سے نت نئی مصنوعات بھی تیار کی جا رہی ہیں۔ ابراہیم آل شهی فارمز نے کھجور سے بنی پانچ نمایاں اشیا متعارف کرائیں جن میں کھجور کی گٹھلی کا قہوہ، کھجور کا عیش (کھجور سے تیار کردہ روایتی ڈش)، کھجور کی ٹِکیاں، کھجور کے بسکٹ اور کیک کے علاوہ قدرتی مٹھاس کا متبادل شامل ہیں۔ یہ مصنوعات خاص طور پر ذیابیطس کے مریضوں اور بچوں کے لیے صحت مند سمجھی جاتی ہیں اور آن لائن اسٹور کے ذریعے فروخت ہوتی ہیں۔ ان کی قیمت 37 ریال سے شروع ہو کر 160 ریال تک پہنچتی ہے۔
اعداد و شمار کے مطابق نجران میں کھجور کے 526,333 درخت موجود ہیں۔ یہ مقامی معیشت، روزگار اور دیہی سیاحت کو سہارا دیتے ہیں اور کھجور کی صنعت کو نئی جہت فراہم کرتے ہیں۔