دبابة إسرائيلية في ميس الجبل جنوب لبنان (أسوشييتد برس)
اگر حزب اللہ کے ہتھیار ضبط ہو گئے تو اسرائیل لبنان میں اپنی موجودگی کم کردے گا: نیتن یاھو
اسرائیل کے وزیر اعظم بنجمن نیتن یاھو نے لبنان کی حکومت کے ’اسلحہ صرف ریاست کے پاس‘ اقدام کے تحت ہتھیاروں پر ریاستی کنٹرول کے فیصلے کو سراہا ہے۔
انہوں نے اپنے دفتر کی جانب سے جاری بیان میں کہا کہ یہ فیصلہ لبنان کی خودمختاری کو بحال کرنے اور ملکی اداروں کو مضبوط بنانے کا موقع فراہم کرتا ہے۔
نیتن یاھو نے اس بات پر زور دیا کہ حزب اللہ کےہتھیار ضبط کرنا 2025ء کے آخر تک لبنان کے لیے نہایت اہم ہے اور اسرائیل لبنان کے اس اقدام کو قدر کی نگاہ سے دیکھتا ہے۔
Your browser doesn’t support HTML5 video
اسرائیلی فوج کی تدریجی کمی
انہوں نے مزید کہا کہ اگر لبنان حزب اللہ کا اسلحہ ضبط کرنے میں کامیاب ہو گیا تو اسرائیل بھی اقدامات کرے گا اور جنوبی لبنان میں اپنی موجودگی کو تدریجی طور پر کم کرے گا۔
نیتن یاھو نے کہا کہ اب وقت آگیا ہے کہ اسرائیل اور لبنان تعاون کی روح میں مل کر حزب اللہ کا اسلحہ ضبط کرنے پر کام کریں۔
لبنانی فوج کی تیاری مکمل
اسی دوران العربیہ اور الحدث نے ایک لبنانی فوجی ذریعے کے حوالے سے بتایا۔ فوج کی جانب سے حزب اللہ کے سلاح کی منتقلی کی منصوبہ بندی تقریباً مکمل ہے۔
ذرائع کے مطابق فوج نے ابھی تک منصوبے کی توسیع کی درخواست نہیں کی اور اسے 2 ستمبر کو حکومت کے اجلاس میں پیش کیا جائے گا۔
یہ پیش رفت ایسے وقت میں ہوئی ہے جب حزب اللہ نے بدھ کو سڑکوں پر احتجاج کی کال دی ہے تاکہ حکومت کے سلاح کی منتقلی کے فیصلے کی مخالفت کی جا سکے۔
لبنانی حکومت نے اگست کے آغاز میں ہتھیاروں کو ریاست کے کنٹرول میں رکھنے کا فیصلہ کیا تھا اور فوج کو کہا تھا کہ وہ ماہ کے آخر تک منصوبہ تیار کرے، تاکہ اسلحہ کی منتقلی سال کے آخر (2025) تک مکمل ہو جائے۔
امریکہ نے بھی اپنے نمائندے تھامس براک کے ذریعے حزب اللہ کے سلاح کو ضبط کرنے کے لیے سب سے تفصیلی منصوبہ پیش کیا تاہم حزب اللہ نے ہتھیار ریاست کے حوالے کرنےکے کسی بھی اقدام کو سختی سے مسترد کردیا ہے۔