سیٹلائٹ تصاویر میں ایران کی جانب سے تباہ شدہ یا تباہ شدہ عمارتوں کو فوری طور پر ہٹانے کے لیے اہم کوششیں دکھائی دیتی ہیں۔
سیٹلائٹ تصاویر .… ایران اسرائیل کے حملے سے متاثرہ جوہری مقام کی صفائی کر رہا ہے
انسٹی ٹیوٹ فار سائنس اینڈ انٹرنیشنل سیکیورٹی کے مطابق یہ کوششیں کسی بھی ایسے شواہد کو مٹانے کے لیے کی جا رہی ہیں جو ایران کو جوہری سرگرمیوں سے منسلک قرار دے سکتے ہیں
ایک تحقیقاتی ادارے کے مطابق ایران نے تہران کے شمال میں ایک جوہری مقام پر تیزی سے صفائی کا آغاز کیا ہے، جو اسرائیلی فضائی حملوں کا نشانہ بنا تھا۔ اس صفائی کے نتیجے میں ممکنہ طور پر جوہری ہتھیاروں کی تیاری سے متعلق کسی بھی قسم کے شواہد مٹائے جا سکتے ہیں۔
"انسٹی ٹیوٹ فار سائنس اینڈ انٹرنیشنل سیکیورٹی" نے بدھ کے روز بتایا کہ سیٹلائٹ تصاویر "ایران کی جانب سے متاثرہ یا تباہ شدہ عمارتوں کو تیزی سے ہٹانے کی نمایاں کوششیں دکھا رہی ہیں۔ یہ بظاہر کسی بھی ایسے شواہد کو مٹانے کے لیے کی جا رہی ہیں جو تحقیق یا جوہری ہتھیاروں کی تیاری سے متعلق ہوں"۔
مذکورہ ادارہ ایک آزاد تحقیقی گروپ ہے جو جوہری ہتھیاروں کے عدم پھیلاؤ پر کام کرتا ہے اور اس کی قیادت سابق اقوام متحدہ کے جوہری معائنہ کار ڈیوڈ اولبرائٹ کر رہے ہیں۔
Your browser doesn’t support HTML5 video
اقوام متحدہ میں ایران کے سفارتی مشن نے فوری طور پر تبصرے کے لیے جواب نہیں دیا۔ ایران بار بار کہتا رہا ہے کہ اس کا جوہری پروگرام پر امن مقاصد کے لیے ہے اور وہ جوہری ہتھیار حاصل کرنے کی کوشش نہیں کر رہا۔
یہ رپورٹ ایسے وقت سامنے آئی ہے جب بین الاقوامی ایٹمی توانائی ایجنسی (آئی اے ای اے) تہران میں معائنوں کو دوبارہ شروع کرنے کے لیے مذاکرات کر رہی ہے۔ یہ معائنے اسرائیل اور ایران کے درمیان 13 سے 24 جون کے دوران جنگ اور امریکی حملوں کے باعث رکے ہوئے تھے۔ امریکی حملے 22 جون کو تین اہم جوہری تنصیبات پر ہوئے تھے۔
چار سفارت کاروں کے مطابق برطانیہ، فرانس اور جرمنی آج جمعرات کو اقوام متحدہ کی پابندیاں دوبارہ عائد کرنے کا عمل شروع کرنے والے ہیں، کیونکہ ایران نے 2015 کے جوہری معاہدے کی خلاف ورزی کی، جس کا مقصد اسے جوہری ہتھیار بنانے سے روکنا تھا۔
Your browser doesn’t support HTML5 video
بین الاقوامی ایٹمی توانائی ایجنسی (آئی اے ای اے) کے ڈائریکٹر رافائیل گروسی نے بدھ کو کہا کہ ایران قانونی طور پر پابند ہے کہ وہ معائنوں کی اجازت دے اور یہ معائنہ "جلد از جلد" شروع ہونا چاہیے۔
انھوں نے کہا کہ ایجنسی چاہتی ہے کہ "تمام متعلقہ مقامات" کا دورہ کیا جائے، بشمول مرکزی تنصیبات فوردو، نطنز اور اصفہان، جو امریکی حملوں سے متاثر ہوئی ہیں۔ مزید یہ کہ ایران کے 400 کلوگرام سے زیادہ یورینیم کے ذخائر کی تازہ ترین صورتحال معلوم کی جائے، جو تقریبا ہتھیار سازی کے لیے موزوں ہے۔
انسٹی ٹیوٹ کی رپورٹ میں کہا گیا کہ اسرائیل نے 18 جون کو موجده کے مقام (جسے لاویزان 2 بھی کہا جاتا ہے) پر دو بار حملہ کیا، جو ملک بھر میں سیکڑوں اہداف کے ساتھ کی گئی کارروائی کا حصہ تھا۔
رپورٹ میں کہا گیا کہ ایٹمی توانائی ایجنسی نے موجده اور "آماد پلان" کے درمیان براہ راست تعلق کی نشان دہی کی، جو ایک جوہری ہتھیاروں کی ترقی کا پروگرام تھا۔ اسے ایجنسی اور امریکی انٹیلی جنس نے الگ الگ انداز میں 2003 میں ختم شدہ قرار دیا تھا۔
رپورٹ میں بتایا گیا کہ پہلے اسرائیلی حملے میں متعدد عمارتیں متاثر ہوئیں، جن میں سے ایک عمارت "انسٹی ٹیوٹ آف اپلائیڈ فزکس" سے منسلک تھی۔ ایک دوسری عمارت "شہید کریمی" گروپ سے تعلق کی حامل تھی، جس پر امریکہ نے میزائل اور دھماکہ خیز مواد کے منصوبوں میں کام کرنے کے الزام میں پابندیاں عائد کی ہیں۔
یہ گروپ "ڈیفنس ریسرچ اینڈ انوویشن آرگنائزیشن" کے ماتحت ہے، جسے امریکہ اور ایٹمی توانائی ایجنسی آماد پلان کا براہِ راست جاں نشین سمجھتی ہیں۔
دوسرے اسرائیلی حملے میں انسٹی ٹیوٹ آف اپلائیڈ فزکس کی عمارت تباہ ہوئی، ایک سیکورٹی عمارت کو نقصان پہنچا اور ایک ورکشاپ تباہ ہو گئی، جیسا کہ 20 جون کو میکسر ٹیکنالوجیز کی سیٹلائٹ تصاویر سے ظاہر ہوا۔
رپورٹ میں بتایا گیا کہ تین جولائی کو لی گئی تصاویر میں صفائی اور ملبہ ہٹانے کا آغاز دیکھا گیا، اور 19 اگست کی تصاویر میں انسٹی ٹیوٹ کی عمارت اور ورکشاپ مکمل طور پر تباہ اور ملبہ ہٹا دیا گیا اور مبینہ طور پر شہید کریمی گروپ کی عمارت بھی ختم کر دی گئی۔
رپورٹ میں کہا گیا "ایران کی جانب سے ان اہم عمارتوں کو تیزی سے مسمار کرنا اور ملبہ ہٹانا اس مقام کو صاف کرنے اور مستقبل میں کسی بھی معائنے کے دوران جوہری ہتھیاروں سے متعلق شواہد حاصل ہونے کے امکانات کو محدود کرنے کے لیے کیا جا رہا ہے۔"