Iran and Israel flags together. Iran and Israel conflict. stock illustration

ایران: موساد کے لیے جاسوسی کے شبے میں آٹھ افراد گرفتار

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

ایرانی پاسداران انقلاب نے ہفتے کے روز بتایا ہے کہ 8 ایسے مشتبہ افراد کو حراست میں لیا گیا ہے جن کے مبینہ طور پر اسرائیلی ریاست کی خفیہ ایجنسی موساد کے ساتھ روابط ہیں۔

ایرانی میڈیا کی رپورٹس کے مطابق زیر حراست لیے گئے یہ افراد حساس مقامات اور تنصیبات کے بارے میں معلومات اسرائیلی موساد کو منتقل کرنے کی کوشش میں تھے۔

یہ معلومات سینیئر فوجی حکام کے بارے میں بھی تھیں۔ ان کے بارے میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ ماہ جون کی بارہ روز اسرائیلی ایران جنگ کے دوران ان آٹھوں افراد نے اعلیٰ فوجی حکام اور جوہری تنصیبات کے بارے میں مخبری کی تھی۔ جس کے نتیجے میں کئی اعلیٰ فوجی عہدے دار اسرائیلی بمباری سے جاں بحق ہو گئے تھے۔

یاد رہے اس بارہ روز جنگ کے دوران امریکہ نے بھی اپنے بنکر بسٹر بموں سے ایران کی تین اہم ترین جوہری تنصیبات کو بد ترین بمباری کا نشانہ بنایا تھا۔

اسی ماہ کے دوران ایرانی پولیس نے انکشاف کیا ہے کہ اس نے حالیہ بارہ روزہ جنگ کے دنوں میں اکیس ہزار مشکوک افراد کو گرفتار کیا ہے۔ تاہم پولیس نے یہ نہیں کہا کہ یہ سب لوگ جاسوسی کے الزام میں ہی گرفتار کیے گئے ہیں۔

ایران نے جنگ کے بعد محض چند مہینوں میں کم از کم آٹھ افراد کو پھانسی چڑھایا ہے۔ ایران ان ایشیائی ملکوں میں شامل ہے جن میں مجرمان کو پھانسی کی سزا دینا رائج ہے۔

تازہ گرفتار کیے گئے افراد کے بارے میں ایرانی سیکیورٹی اداروں نے اطلاع دی ہے کہ ان افراد کو غیر معمولی طور پر آن لائن اطلاعات اور تصاویر یا دستاویزات وغیرہ منتقل کرنے کی تربیت دی گئی تھی۔ یوں وہ کامیابی سے اسرائیلی ریاست کی مدد کر رہے تھے۔

ایرانی میڈیا رپورٹس کے مطابق یہ گرفتاریاں ایران کے شمال مشرقی حصے سے کی گئی ہیں۔ تاہم اس سے پہلے کہ وہ اپنے خفیہ منصوبوں پر عمل کرتے اور موساد کے نئے منصوبوں پر عمل کر کے کوئی دہشت گردی کرتے انہیں ان کے تیار کردہ راکٹ لانچرز، بوبی ٹریپس اور بموں سمیت حراست میں لے لیا گیا ہے۔

العربیہ کی تازہ خبریں Google News کے ذریعے حاصل کریں