فلسطین کے صدر محمود عباس
غزہ کا انتظام چلانے کے لیے عرب یا بین الاقوامی شراکت قابل قبول ہے: محمود عباس
ہم اسرائیل کے خلاف جنگ نہیں چاہتے، پر امن مزاحمت فلسطینیوں کا حق ہے، فلسطینی ریاست کے لیےسعودی عرب کی کاوشیں قابل تحسین ہیں: فلسطینی صدر کی العربیہ سے گفتگو
فلسطینی صدر محمود عباس نے "العربیہ" اور "الحدث" چینلز کے ساتھ گفتگو میں کہا ہے کہ "اسرائیل فلسطین کو مکمل طور پر تباہ کرنا چاہتا ہے"۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ فلسطینی اتھارٹی غزہ کے انتظام میں عرب یا بین الاقوامی شراکت سے ہچکچاہٹ محسوس نہیں کرتی۔
محمود عباس نے بتایا کہ غزہ میں "کم از کم دو لاکھ افراد ہلاک یا زخمی ہو چکے ہیں"۔ انہوں نے کہا کہ "اسرائیل اپنی پالیسی جاری رکھے ہوئے ہے جبکہ دنیا صرف مذمت تک محدود ہے"۔ انہوں نے مزید کہا کہ فلسطینی "بین الاقوامی فیصلوں کے عمل درآمد کی عدم موجودگی کے عادی ہوچکے ہیں۔ہمارے پاس فلسطین سے متعلق 1000 اقوام متحدہ کے فیصلے ہیں، جن میں سے کوئی بھی نافذ نہیں ہوا"۔
صدر عباس نے بتایا کہ "غزہ واقعی بھوک کا شکار ہے، جو جنگ میں نہیں مرا وہ بھوک سے مر رہا ہے، بھوک سے مرنے والوں کی تعداد ہلاک ہونے والوں سے زیادہ ہے"۔ انہوں نے کہا کہ اسرائیلی وزیر اعظم بنجمن نیتن یاھو "فلسطینی عوام کے صفایا پر مصر ہیں"۔انہوں نے مزید کہا کہ نیتن یاھو "چاہتا ہے کہ وزیر اعظم رہے تاکہ اسرائیل میں اس کے خلاف مقدمہ نہ ہو سکے"۔
اس کے علاوہ محمود عباس نے کہا کہ "اردن اور مصر نے شاندار موقف اختیار کیا ہے تاکہ غزہ اور مغربی کنارے میں فلسطینیوں کو بے دخلی سے بچایا جا سکے"۔ انہوں نے کہا کہ"ہم فلسطینی عوام کی بے دخلی روکنے کے لیے کام کر رہے ہیں"۔
انہوں نے مزید کہا کہ "فلسطینی اتھارٹی سفارتی طور پر غزہ پر جنگ روکنے میں سرگرم ہے"۔ انہوں نے کہا کہ "ہم غزہ کے انتظام کے لیے تیار ہیں اور اس کے لیے تمام وسائل موجود ہیں۔ عرب یا بین الاقوامی شراکت کے بارے میں کوئی اعتراض نہیں"۔
صدر عباس نے واضح کیا کہ "نیتن یاھو ایک مکمل فلسطینی ریاست کے قیام کے خلاف ہیں۔ہم نے 1988 ءمیں اسرائیل کو تسلیم کیا، پھر بھی وہ فلسطینی ریاست کے قیام کی اجازت نہیں دیتے"۔
انہوں نے کہا کہ "149 ممالک نے فلسطینی ریاست کو تسلیم کیا ہے اور کئی سربراہان نے مجھے فلسطین کو تسلیم کرنے کی خواہش سے آگاہ کیا ہے۔ ہم اقوام متحدہ جائیں گے تاکہ فلسطین کو مکمل رکنیت ملے"۔
محمود عباس نے زور دیا کہ "اوسلو معاہدے میں کوئی فلسطینی رعایت نہیں دی گئی۔ یہ معاہدہ "18 لاکھ فلسطینیوں کو وطن واپس آنے کا موقع فراہم کرتا ہے"۔ انہوں نے کہا کہ نیتن یاھو نے "اوسلو معاہدہ ختم یا معطل کرنے کی کوشش کی" مگر یہ معاہدہ "دو طرفہ ہے اور کسی ایک طرف سے ختم نہیں کیا جا سکتا"۔ انہوں نے مزید وضاحت کی۔ "اوسلو میں ہم نے اسرائیل اور فلسطینی قیادت کے درمیان باہمی طور پرتسلیم پر اتفاق کیا۔ اسرائیلی اب اس پر پچھتاتے ہیں"۔
صدر عباس نے کہا کہ"ہم اسرائیل کے خلاف جنگ نہیں چاہتے۔ ہمارا قانون پر امن عوامی مزاحمت پر مبنی ہے"۔ انہوں نے بتایا کہ وہ "حماس کے ساتھ کئی بار مذاکرات کر چکے ہیں مگر نتیجہ نہیں نکلا۔ حماس کو فلسطینی قیادت اور اس کی قانونی ذمہ داریوں کو تسلیم کرنا چاہیے"۔ انہوں نے کہا کہ"ہم ایک ریاست اور ایک قوم ہیں اور حماس کو ایک ریاست اور ایک ہتھیار کے اصول پر عمل کرنا ہوگا"۔
لبنان میں فلسطینی کیمپوں کے حوالے سے محمود عباس نے کہا کہ "لبنان میں کیمپوں کے ہتھیار واپس لینے کی بات 15 سال سے جاری ہے۔ یہ اقدام لبنان کی حفاظت کے لیے ضروری ہے۔کیمپوں کے ہتھیار نے 1969ء میں اپنا مقصد پورا کیا، اب ان کا کوئی کردار نہیں"۔
انہوں نے بتایا کہ وہ لبنانی صدر جوزف عون کے ساتھ تمام فلسطینی ہتھیار واپس لینے پر متفق ہیں ۔ہم لبنان سے تمام فلسطینی ہتھیار واپس لینے کے لیے پرعزم ہیں"۔
صدر عباس نے کہا کہ "میں لبنان کے ساتھ معمول کی رشتہ داری چاہتا ہوں تاکہ وہ اپنی یکجہتی اور سکیورٹی برقرار رکھے۔ میں لبنان کے ریاستی منصوبے میں رکاوٹ نہیں بنوں گا۔ فلسطینی ہتھیار لبنان کی ریاست کے پاس امانت کے طور پر رہیں گے"۔
سعودی عرب کے حوالے سے محمود عباس نے کہا کہ وہ "فلسطین کے حوالے سے اپنے تمام موقف پر قائم ہے۔سعودی عرب فلسطینی ریاست کے قیام کے معاملے میں کسی بھی مفاد کو مقدم نہیں کرے گا"۔