حزب اللہ کے حامی تخفیف اسلحہ کے خلاف احتجاج کے لیے سڑکوں پر نکل آئے (آرکائیو - اے ایف پی)

’ہتھیاروں پر ریاستی کنٹرول کے وقت کا تعین کرنے کے لیے فوج کو اختیارات سونپ دیےگئے ہیں‘

حکومت ہتھیاروں پر کنٹرول کے لیے فوج کی حکمت عملی کی حمایت کرتی ہے: لبنانی وزیر کی العربیہ سے گفتگو

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

لبنان کے وزیر زراعت نزار ہانی نے کہا ہے کہ حکومت نے فوج کی ہتھیاروں کو کنٹرول کرنے کی منصوبہ بندی کی مکمل حمایت اور تائید کی ہے۔

انہوں نے العربیہ/الحدث سے گفتگو کرتے ہوئے بتایا کہ حکومت نے لبنانی فوج کو اس بات کا اختیار دے دیا ہے کہ وہ ہتھیاروں کے کنٹرول کے لیے وقت کا تعین کرے۔

ان کا کہنا تھا کہ فوج کا سربراہ اس حوالے سے حکومت کو باقاعدگی سے رپورٹ پیش کرے گا جبکہ شیعہ اتحاد سے تعلق رکھنے والے وزراء نے اس موضوع پر مزید بحث کے لیے وقت بڑھانے کا مطالبہ کیا ہے۔

ہانی نے زور دیا کہ اسرائیل کو جنوبی لبنان کی پانچ متنازعہ مقامات سے پیچھے ہٹنا چاہیے۔ ان کا کہنا تھا کہ امریکی تجویز اسرائیل پر بھی ذمہ داریاں عائد کرتی ہے۔

یہ پیشرفت ایسے وقت سامنے آئی ہے جب گذشتہ روز جنوبی لبنان کے علاقے راس الناقورہ میں فائر بندی کے معاہدے کی نگرانی کرنے والی کمیٹی کا اجلاس منعقد ہوا، جس میں امریکی ایلچی مورگن اورٹاگوس اور امریکی فوج کے سینٹرل کمانڈ کے سربراہ براد کوپر نے بھی شرکت کی۔

العربیہ/الحدث کو موصول اطلاعات کے مطابق لبنان کو فائر بندی کی نگرانی کرنے والی کمیٹی کی صدارت کی تبدیلی کی اطلاع دی گئی ہے، جو ہر چھ ماہ بعد عمل میں آتی ہے۔ ذرائع نے مزید بتایا کہ کمیٹی کا نیا سربراہ زیادہ سے زیادہ تین ہفتوں میں لبنان پہنچ جائے گا۔

Your browser doesn’t support HTML5 video

حزب اللہ کے ہتھیاروں کا معاملہ

واضح رہے کہ رواں برس اگست کے آغاز میں لبنانی حکومت نے سال کے آخر تک حزب اللہ کے ہتھیار جمع کرنے کے لیے فوج کو ایک منصوبہ بنانے کی ہدایت دی تھی۔ یہ اقدام امریکی دباؤ اور اس خدشے کے تحت سامنے آیا کہ اسرائیل ایک سال طویل جنگ کے بعد دوبارہ عسکری کارروائی شروع کر سکتا ہے۔

امریکی وفد نے حالیہ دنوں میں لبنان میں ہتھیاروں اور سرحدوں کے معاملات پر بات کی جبکہ ایک رکن پارلیمان نے حزب اللہ پر "چال بازی" کا الزام بھی لگایا۔

گذشتہ جمعہ کو کابینہ کے اجلاس کے بعد حکومت نے فوج کی تجویز کردہ تدابیر کا خیرمقدم کیا تھا تاکہ ہتھیار صرف ریاستی اداروں تک محدود رہیں۔

وزیر اطلاعات بول مرقص نے اس موقع پر کہا کہ "لبنانی فوج اس منصوبے پر عمل درآمد شروع کرے گی، البتہ وسائل محدود ہیں جن میں لاجسٹک، مالی اور افرادی قوت کی کمی شامل ہے۔"

مرقص نے یہ بھی واضح کیا کہ فوجی سربراہ نے منصوبے پر عمل درآمد میں درپیش "رکاوٹوں" کا ذکر کیا جن میں نمایاں ترین "اسرائیلی حملے" ہیں۔

العربیہ کی تازہ خبریں Google News کے ذریعے حاصل کریں