مجلس الأمن جديد

سلامتی کونسل نے ایران پر پابندیاں مستقل طور پر ختم کرنے کی قرارداد مسترد کردی

تہران اور یورپی طاقتوں کے پاس میکانزم آف سنیپ بیک مؤخر کرنے کے لیے 8 دن باقی رہ گئے

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل نے ایران پر عائد پابندیاں مستقل طور پر ختم کرنے کی قرارداد مسترد کر دی۔ تاہم تہران اور بڑی یورپی طاقتوں کے پاس ابھی بھی 8 دن باقی ہیں تاکہ ’’ سنیپ بیک میکانزم ‘‘ کو مؤخر کرنے پر اتفاق کیا جا سکے۔ یہ میکانزم دوبارہ عالمی پابندیاں نافذ کرنے کے لیے تیار کیا گیا ہے۔

سلامتی کونسل میں جمعہ اس قرارداد پر ووٹنگ کی گئی۔ یہ ووٹنگ اس وقت سامنے آئی جب برطانیہ، فرانس اور جرمنی نے 28 اگست کو ایک ’’ 30 روزہ عمل ‘‘ شروع کیا تھا تاکہ اقوام متحدہ کی پابندیاں دوبارہ عائد کی جا سکیں۔ ان ممالک نے تہران پر الزام لگایا کہ وہ 2015 میں عالمی طاقتوں کے ساتھ طے پانے والے ایٹمی معاہدے پر عمل نہیں کر رہا جس کا مقصد ایران کو جوہری ہتھیار بنانے سے روکنا تھا۔ جمعہ کے روز روس، چین، پاکستان اور الجزائر نے قرارداد کے حق میں ووٹ دیا جبکہ امریکا، برطانیہ اور فرانس سمیت نو ارکان نے قرار داد کی مخالفت کی۔ دو اراکین نے ووٹنگ میں حصہ نہیں لیا۔

اقوام متحدہ کے ایک سفارتی ذریعے نے روسی خبر رساں ایجنسی ’’ تاس ‘‘ کو بتایا کہ اگر یہ قرارداد منظور نہ ہوئی تو 28 ستمبر کو ایران پر اقوام متحدہ کی پابندیاں دوبارہ لاگو ہو سکتی ہیں۔ چونکہ قرارداد منظور نہیں ہوئی لہٰذا 30 روزہ مدت پوری ہونے کے بعد یعنی 28 ستمبر کو پابندیاں دوبارہ عائد کی جا سکتی ہیں۔ تاہم امکان ہے کہ معاہدے میں توسیع کے لیے بات چیت اگلے ہفتے بھی جاری رہے۔ خاص طور پر اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے اعلیٰ سطح کے اجلاس جو نیویارک میں ہونے والا ہے کے دوران بات چیت جاری رہ سکتی ہے۔

ایران نے جمعہ کے روز سلامتی کونسل کے اس ووٹ کو مسترد کر دیا جس میں اس کے جوہری پروگرام کی وجہ سے دوبارہ پابندیاں عائد کرنے کی حمایت کی گئی تھی اور اسے غیر قانونی قرار دیا۔ اقوام متحدہ میں ایران کے مندوب امیر سعید ایروانی نے کہا کہ آج کا اقدام جلد بازی پر مبنی، غیر ضروری اور غیر قانونی ہے۔ ایران اس کے نفاذ کا کوئی پابند نہیں ہے۔ انہوں نے اس کو دباؤ کی پالیسی قرار دیا۔ ساتھ ہی انہوں نے کہا کہ ایران کے جوہری پروگرام پر سفارت کاری کا دروازہ ابھی بند نہیں ہوا۔ انہوں نے مزید کہا کہ ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی جلد نیویارک میں یورپی وزرائے خارجہ سے ملاقات کریں گے ۔ یہ ملاقات اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے اجلاس کے دوران ہوگی۔

ادھر اقوام متحدہ میں روس کے مستقل مندوب واسیلی نیبینزیا نے کہا ہے کہ ان کی نظر میں کوئی وجہ موجود نہیں جو ایران پر سلامتی کونسل کی پابندیوں کے خاتمے میں رکاوٹ بنے۔ یہ پابندیاں اس سال اکتوبر میں ختم ہونی ہیں جیسا کہ 2015 کے مشترکہ جامع ایکشن پلان (JCPOA) میں یہ طے کیا گیا تھا۔ نیبینزیا نے سلامتی کونسل میں ووٹنگ کے بعد کہا کہ مشترکہ جامع ایکشن پلان کی منطق یہ ہے کہ ایران پر عائد تمام پابندیاں مرحلہ وار ختم کی جائیں۔ ہمارا پختہ یقین ہے کہ 18 اکتوبر کو ان کی میعاد ختم ہونے سے روکنے کی کوئی وجہ نہیں۔

ایران پر بین الاقوامی پابندیاں پہلے ہی سلامتی کونسل کی قرارداد 2231 کے تحت اٹھا لی گئی تھیں جس نے ایٹمی معاہدے کے لیے قانونی فریم ورک مہیا کیا تھا۔ اس قرارداد کی مدت اکتوبر میں ختم ہو رہی ہے۔ اس سے پہلے روس اور چین نے ایک نئی قرارداد پیش کی تاکہ پابندیاں ختم رہیں مگر یہ ووٹنگ میں ناکام ہو گئی۔ اس کی منظوری کے لیے سلامتی کونسل کے 15 میں سے 9 ووٹ درکار تھے۔

اب اگر نئے مذاکرات نہ ہوئے تو ایران پر پابندیاں دوبارہ عائد ہو جائیں گی۔ ان مذاکرات کا امکان آئندہ ہفتے سے شروع ہونے والے اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے اجلاس میں ہے جس میں ایرانی صدر مسعود بزشکیان بھی شریک ہوں گے۔ اگرچہ ایران نے حالیہ ہفتوں میں یورپی ممالک کے ساتھ نئی بات چیت کی ہے مگر برطانیہ، فرانس اور جرمنی پر مشتمل یورپی ٹرائیکا نے ایران کو بتایا ہے کہ وہ اب بھی ٹھوس اقدامات کے منتظر ہیں۔

یاد رہے امریکہ کے معاہدے سے نکلنے کے بعد ایران نے اس ڈیل کے کئی اہم وعدوں پر عمل چھوڑ دیا ہے۔ خاص طور پر ایران نے یورینیم کی افزودگی میں اضافہ کیا ہے اور اسے زیادہ سطح تک پہنچا دیا ہے۔ مغربی ملکوں کو شبہ ہے کہ ایران جوہری ہتھیار بنانے کی کوشش کر رہا ہے لیکن ایران اس کی تردید کرتا ہے اور مؤقف اختیار کرتا ہے کہ اس کا ایٹمی پروگرام صرف پرامن مقاصد کے لیے ہے۔

العربیہ کی تازہ خبریں Google News کے ذریعے حاصل کریں